بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 24/10/2026 |
دارالافتاء
کام کرنے کے بعداپنی رقم کی وصولی کے لئے رشوت کا سہارا لینا
سوال
ہمارا ایک ڈیزائن کنسلٹنسی فرم ہے جو پچھلے 22سال سے بلڈنگ ڈیزائن میں مختلف شعبہ جات میں خدمات سرانجام دے رہاہے جس میں مساجد اورمدرس کے ساتھ ساتھ ہسپتال،گھر،ہوٹلز اور کمرشنل بلڈنگ شامل ہیں ،چونکہ ہمارے زیادہ ترکام پرائیوٹ سیکٹر سے جڑے ہوتے ہیں اور عرصہ دراز سے منسلک ہیں۔ ہمارے فرم نے زیادہ ترگورنمنٹ سیکٹر میں کچھ وجوہات کی وجہ سے کام کرنے سے گزیرکیا لیکن اب پرائیوٹ سیکٹر جو پچھلے دو سال سے ملک کی معاشی صورت حال کی وجہ سے کام بالکل رکا ہوا ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے جس کے ڈائریکٹ اثرات ہمارے فرم پر پڑے ہیں اور مسلسل نقصان میں جارہاہے اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے گورنمنٹ سیکٹر جانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس میں کام ملنے کے بعدرقم کی وصولی کے لئے اپنا بل جمع کرتے ہیں اور اسی کی وصولی کے لئےہم سے ناجائز پیسوں کی ڈیمانڈ کی جاتی ہے، تو کیا ہمارے لئےاس صورتحال میں رشوت دینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ رشوت لینےاور دینے والے پر رسولِ اکرم ﷺ نے لعنت فرمائی ہے، چنانچہ رشوت لینا اور دینا دونوں ناجائز ہیں،اس لیے حتی الامکان رشوت دینے سے بھی بچنا ضروری ہے، البتہ اگر کوئی جائز کام تمام لازمی تقاضوں کو پورا کرنے اور حق ثابت ہونےکے باوجود صرف رشوت نہ دینے کی وجہ سے نہ ہورہا ہو تو ایسی صورت میں حق دار شخص کو چاہیے کہ اولاً وہ اپنی پوری کوشش کرے کہ رشوت دیئےبغیر کسی طرح اس کا کام ہوجائے،اور جب تک کام نہ ہو اس وقت تک صبر کرے لیکن اگر ضرورت ہو اورکوئی دوسرا متبادل راستہ نہ ہو تو جائز حق کی وصولی کے لیے مجبوراً رشوت دینے کی صورت میں دینے والا گناہ گار نہ ہوگا، البتہ رشوت لینے والے شخص کے حق میں رشوت کی وہ رقم بہرحال ناجائز ہی رہے گی اور اسے اس رشوت لینے کا سخت گناہ ملے گا۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگرگورنمنٹ سیکٹر میں معیار کے مطابق کام کرنے کے بعد رقم کا استحقاق حاصل ہوجائےلیکن تمام قانونی تقاضوں کے باوجوداپنی رقم بلارشوت نہ ملے تو ایسی صورت میں چونکہ اپنا ہی ثابت شدہ حق وصول کرنا ہے لہذا اس کی وصولی کے لئےرشوت دینے کی گنجائش ہوسکتی ہےبشرطیکہ اس سے کسی اور کی حق تلفی لازم نہ ہو۔نیز اس پر توبہ بھی کرتے رہنا چاہیئے۔
عن عبد الله بن عمرو ، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي»(السنن للترمذی،باب ماجاء فی الراشی والمرتشی،رقم الحدیث:1337،ج:3،ص:615)
قال الملا علي القاري:(وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما) : بالواو (قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي»): أي: معطي الرشوة وآخذها، وهي الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة، وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلماً فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلا بأس به، لكن هذا ينبغي أن يكون في غير القضاة والولاة؛ لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه، ودفع الظالم عن المظلوم واجب عليهم، فلايجوز لهم الأخذ عليه.(مرقاة المفاتيح،باب رزق الولاة،ج:6،ص:2437)
"دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسه و ماله و لإستخراج حق له ليس برشوة يعني في حق الدافع .(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الحظر والإباحة،ج:6،ص:423)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں