بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

طلاق رجعی کی عدت کی مدت


سوال

میرے شوہر نے مجھے ایک طلاق دی تھی۔ میں نے گھر بنانے کی خاطر بہت کوشش کی کہ وہ کسی طریقے سے سمجھے اور رجوع کرلے لیکن اس نے کوئی رجوع نہیں کیا یہاں تک کہ میرے تین حیض گزر گئے۔ میں نے شوہر  کو بتایا کہ تم نے اپنے وقت (عدت)میں رجوع نہیں کیا لہذا نکاح اب ختم ہوچکا ہے۔ شوہر کہتا ہے کہ عدت ختم نہیں ہوئی کیونکہ عدت چار مہینے ہیں، اب بھی ٹائم باقی ہے، مجھے رجوع کا حق حاصل ہے۔ آپ حضرات یہ بتائیں کہ طلاق کی عدت کتنی ہے؟ آیا تین حیض یا چار مہینے؟ کیا شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر شادی شدہ عورت کو شوہر طلاق دیدے اور وہ حاملہ نہ ہوتو اس کی عدت تین حیض ہوگی ۔اور اگر حاملہ ہو تو وضع حمل تک انتظار کرے گی۔

صورت مسئولہ کے مطابق  اگرواقعی مذکورہ عورت کے تین حیض پورے ہوچکے ہوں اور شوہر نے اس دوران نہ قولاً رجوع کیا ہواور نہ فعلاًیعنی ازدواجی تعلق قائم نہ کیا ہوتویہ عورت شوہر کےنکاح سےآزاد ہوچکی ہے۔

 

" وإذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء... " وإن كانت حاملا فعدتها أن تضع حملها ". (الهداية ، ج:2، ص:274، دار إحياء التراث العربي، بيروت)


فتویٰ نمبر : 6893/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں