بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حرام چیزیں بیچنےیا ڈیلیورکرنےپراجرت لینا


سوال

میں انگلینڈ میں رہتاہوں۔ یہاں پرلوگ مختلف جنرل اسٹورز  میں کام کرتے ہیں جن میں حلال اورحرام دونوں قسم کی چیزیں فروخت ہوتی ہیں،اس میں شراب اورخنزیرکاگوشت بھی بیچاجاتاہے۔اب سوال یہ ہےکہ جوآدمی اس میں کام کرتاہےکیااس کی تنخواہ حلال ہےیاحرام ؟نیزیہاں پرلوگ مختلف ہوٹلوں اورpizza shopمیں ڈیلیوری کا کام کرتے ہیں یعنی کسی ہوٹل یاpizza shopپراپنی  یاکمپنی کی گاڑی پریاموٹرسائیکل پرچیزیں لوگوں کےگھروں کولےجاتےہیں تووہ ہوٹل والےاورpizza shopوالےاس پرخنزیرکاگوشت ڈالتے ہیں ، ان کی تنخواہ   کاکیاحکم ہے؟

جواب

           واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نے حرام اور معصیت والی  اشیاء  جیسے : شراب، خنزیر، اور بت وغیرہ کی خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے،کیونکہ خریدو فروخت سے اشیاء کو  عزت و عظمت  ملتی ہے، اور یہ کسی صاحب ایمان کا شیوہ نہیں کہ وہ حرام اور معصیت والی اشیاء کی تعظیم و توقیر کا سبب بنے،ایساہی حرام کام میں تعاون بھی گناہ  ہے چنانچہ شراب پینے والے کے ساتھ احادیث مبارکہ میں پلانے والے، اس کے  بنانے والے اور اسے اُٹھا کر لےجانے والے پر بھی اللہ کی لعنت کا ذکر ہے۔لہذااس کی روشنی میں خنزیرکا گوشت یا شراب فروخت کرنے یا اُسے اُٹھا کر لےجانےمیں تعاون  کرنےکی گنجائش نہیں پائی جاتی۔لیکن یہ بھی ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ دیارِ غیر میں اقلیت میں رہنے والے مسلمانوں کے احوال مختلف ہیں ،ایسے ممالک میں معاشی مسائل سےدو چار مسلمانوں کےلیے ان جیسے پیشہ اختیار کرنے کے سوا اورکوئی چارہ نہیں لہذا بامرِ مجبوری امام ابوحنیفہؒ کی رائے سے استفادہ کی گنجائش پائی جاتی ہے کہ شراب کی فروخت یا غیرمسلم کی عبادت کےلیے مکان کرایہ پر دی جاسکتی ہے،اِسی کوسامنے رکھتے ہوئے ڈیلیوری کی مزدوری کی گنجائش مل سکتی ہے۔

 

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما، أنه: سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول عام الفتح وهو بمكة: «إن الله ورسوله ‌حرم ‌بيع ‌الخمر، والميتة والخنزير والأصنام»، فقيل: يا رسول الله، أرأيت شحوم الميتة، فإنها يطلى بها السفن، ويدهن بها الجلود، ويستصبح بها الناس؟ فقال: «لا، هو حرام»، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك: «قاتل الله اليهود إن الله لما حرم شحومها جملوه، ثم باعوه، فأكلوا ثمنه».(صحيح البخاري،باب بيع الميتة والأصنام،ج:3،ص:84)

عن أبي علقمة، مولاهم وعبد الرحمن بن عبد الله الغافقي، أنهما سمعا ابن عمر، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌لعن ‌الله ‌الخمر، وشاربها، وساقيها، وبائعها، ومبتاعها، وعاصرها، ومعتصرها، وحاملها، والمحمولة إليه».(سنن أبي داود، باب العنب يعصر الخمر، ج:3،ص:326)

حرم بیع الخمر ۔۔۔ وکذا معنی قولہ:(والمیتۃ،والخنزیر،والأصنام)أی وإن کانت من ذھب أو فضۃ۔(مرقاۃالمفاتیح، کتاب البیوع، باب الکسب الطیب والحلال، ج:6، ص:18، المکتبۃ الحقانیہ)

"ومن أجر بيتا ليتخذ فيه بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر بالسواد فلا بأس به" وهذا عند أبي حنيفة، وقالا: لا ينبغي أن يكريه لشيء من ذلك؛ لأنه إعانة على المعصية. وله أن الإجارة ترد على منفعة البيت، ولهذا تجب الأجرة بمجرد التسليم، ولا معصية فيه، وإنما المعصية بفعل المستأجر، وهو مختار فيه فقطع نسبته عنه.(الهداية، ج:4،ص:378)

وإن استأجره ليكتب له غناء بالفارسية أو بالعربية فالمختار أنه يحل لأن المعصية في القراءة.(الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، ج:4، ص:450)

ولو استأجر الذمي مسلما ليبني له بيعة أو كنيسة جاز ويطيب له الأجر. كذا في المحيط.(أيضا)


فتویٰ نمبر : 5762/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں