بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

آن لائن پڑھانے کا حکم


سوال

کیا آن لائن قرآن کریم، ترجمہ و تفسیر مع تجوید اور درس نظامی پڑھانا جائز ہے؟ کیونکہ نہ پڑھانے پر نسیان کا خوف ہے۔ اور اس پر ملنے والے معاوضہ کا کیا حکم ہے؟ نیز مخالف صنف کے سٹوڈنٹس کو پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟ اگر کوئی خاتون آن لائن پڑھنے پڑھانے کوجاری رکھنا چاہے تو اس کی آواز کے پردے کے متعلق کیاحکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ علم کے حصول کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ استاذ کے پاس جاکر براہِ راست علم حاصل کیا جائے، البتہ اگر آن لائن تعلیم میں پڑھنے یا پڑھانے والوں کی ویڈیو گرافی نہ ہو، محض پڑھانے والے کی آواز آتی ہو، تو اس سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔تاہم کوشش یہی کرنی چاہیے کہ دینی تعلیم  کسی مستند عالم دین سے حاصل کی جائے،اور اگر دوران تدریس  کیمرے کا استعمال ضروری  ہو تو  کیمرے کا رخ غیرجاندار  چیز ( بورڈ ، کتاب وغیرہ ) کی طرف کیا جائے،کیمرے کے سامنے  استاد یا طالب علم/طالبہ نہ آئے۔نیز  آن لائن پڑھانے پر مقررہ اجرت لینا بھی جائز ہے۔ البتہ مرد اورعورت کےلحاظ سے آن لائن تعلیم وتدریس کی ممکنہ طور پر چار صورتیں بنتی ہیں: 1-مرد کا لڑکوں کو پڑھانا، 2-مرد کا لڑکیوں کو پڑھانا، 3-عورت کا لڑکیوں کو پڑھانا، 4-عورت کا لڑکوں کو پڑھانا۔

1 - مرد کا لڑکوں کو پڑھانا درست اور جائز ہے۔

2- مرد کا بچیوں یا لڑکیوں کو پڑھانے کی دوحالتیں ہیں:

۱۔پڑھنے والی اگر چھوٹی بچیاں ہوں ( یعنی قریب البلوغ مراہقہ نہ ہوں، عمر تقریباً نو سال سے کم ہو)۔تو مرد استاذ  کا ان کو پڑھانا جائز ہے، خواہ آن لائن تدریس ہو یا براہ راست یعنی آمنے سامنے ہو۔

 ۲۔پڑھنے والی  قریب البلوغ یا بالغ لڑکیاں ہوں۔ تو اگر پڑھنے والی صرف ایک طالبہ ہو، تو اس سے چونکہ فتنہ میں واقع ہونے کا اندیشہ ہے، لہذا ایک وقت میں صرف ایک طالبہ کو آن لائن پڑھانا فتنہ کے احتمال کی وجہ سے  درست نہیں۔ ہاں اگر اس ایک طالبہ کے ساتھ دوران درس اس کا کوئی محرم مرد یا کوئی خاتون وغیرہ موجود ہو اور فتنہ میں مبتلا ہونے کا کوئی اندیشہ نہ ہو تو پھر گنجائش ہے۔ اور اگر آن لائن تدریس کے دوران دو یا اس سے زیادہ طالبات ہوں اور خوفِ فتنہ نہ ہو تو ان طالبات کو مرد استاذ کا پڑھانا،حجاب وستر  کی رعایت رکھتے ہوئے جائز ہے، نیز جائز صورتوں میں بھی دورانِ درس غیر ضروری باتوں سے قطعی طور پر اجتناب لازم ہے۔

3- کسی عورت کا لڑکیوں کوآن لائن  پڑھانا اُس وقت  جائز ہے جب درج ذیل شرائط کا لحاظ  رکھا جائے:

١- اگر استانی شادی شدہ ہے تو  شوہر کی اجازت سے تعلیم دے۔

٢- لڑکیوں کی تعلیمی کیفیت  وغیرہ کے سلسلے  میں غیر محرم  مردوں سے رابطہ  اور بات  چیت  نہ کی جائے۔

4:عورت کا بچوں یا لڑکوں کو پڑھانے کی دو صورتیں ہیں:

١- ناسمجھ  بچوں کو پڑھانا جائز ہے۔

٢-  اگر پڑھنے والا صرف ایک سمجھ دار یا قریب البلوغ یا بالغ لڑکا ہو، تو اکیلے اس کو آن لائن پڑھانا فتنہ کے احتمال کی وجہ سے جائز نہیں۔ اور اگر آن لائن تدریس کے دوران دو یا اس سے زیادہ طلباء ہوں تو ان طلباء کو خاتون استانی کا پڑھانا، حجاب وستر  کی رعایت رکھتے ہوئے جائز ہے، تاہم دورانِ درس  غیر ضروری باتوں سے قطعی طور پر  اجتناب لازم ہے۔

نیز خواتین کی آواز کے عورت ہونے میں فقہاء کرام کی دو رائے ہیں۔ مگر صحیح یہ ہے کہ عام حالات میں خاتون کی آواز عورت نہیں۔ البتہ اندیشہ فتنہ کے وقت عورت کی آواز بھی پردہ ہے۔ چنانچہ آن لائن پڑھانے میں اگر فتنے کا اندیشہ  یا  کسی اور نا جائز کام کا ارتکاب نہ ہو تو محض آواز کی وجہ سے پڑھانا نا جائز نہ ہو گا۔ تاہم لہجہ سنجیدہ رکھے گی اور لہجے میں نرمی و نزاکت سے بہر حال بچنے کی کوشش کرے گی۔

 

قوله تعالى فلا تخضعن بالقول فيطمع الذي في قلبه مرض، قيل فيه ان لا تلين القول للرجال على وجه يوجب الطمع فيهن من أهل الريبة.( احكام القرآن للجصاص، ج:3، ص:470)

"لا يخلون رجل بامرأة إلا و معها ذو محرم،۔۔۔"(صحيح مسلم، كتاب الحج، باب سفر المرأة مع محرم، ج:4، ص:106.)

". . .من وقع في الشبهات وقع في الحرام كالراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يرتع فيه ألا وإن لكل ملك حمى ألا وإن حمى الله محارمه. . .(يوشك) : أي: يقرب ويسرع (أن يرتع فيه) : أي: في نفس الحمى بناء على تساهله في المحافظة، وجراءته على الرعي، وعدم الفرق بينه وبين غيره، فيستحق عقاب الملك."(مرقاة المفاتيح، كتاب البيوع، باب الكسب وطلب الحلال، ج:5، ص:1892)

وفي السراج: لا عورة للصغير جدا، ثم ما دام لم يشته فقبل ودبر، ثم تغلظ إلى عشر سنين، ثم كبالغ.(قوله: لا عورة للصغير جدا) وكذا الصغيرة كما في السراج، فيباح النظر والمس كما في المعراج. قال ح: وفسره شيخنا بابن أربع فما دونها، ولم أدر لمن عزاه. اهـ. أقول: قد يؤخذ مما في جنائز الشرنبلالية ونصه: وإذا لم يبلغ الصغير والصغيرة حد الشهوة يغسلهما الرجال والنساء، وقدره في الأصل بأن يكون قبل أن يتكلم. اهـ.(رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، مطلب في النظر إلى وجه الأمرد، ج:2، ص:81.)

ویفتی الیوم بصحتها أی (الإجارة) علی تعلیم القرآن والفقه والإمامة والأذان (رد المحتار علی الدر المختار،ج:5،ص:46)

وفی شرح المنية الأشبه أن صوتها لیس بعورة. و إنما يؤدي إلى الفتنة كما علل به صاحب الهداية وغيره في مسألة التلبية ولعلهن إنما منعن من رفع الصوت بالتسبيح في الصلاة لهذا المعنى.(البحرالرائق شرح كنزالدقائق، كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، ج:1، ص:285)

ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع: ولا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها، لأن ذلك ليس بصحيح، فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ. قلت: ويشير إلى هذا تعبير النوازل بالنغمة."(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، مطلب في ستر العورة، ج:2، ص:80.)


فتویٰ نمبر : 5978/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں