بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تقسیم میراث کے بعد رقم پر چند سال بعد قبضہ ملنے کی صورت میں وجوب زکوۃ کا حکم


سوال

میں ایک شادی شدہ عورت ہوں میرے والد صاحب چند سال پہلے فوت ہوچکے تھے ہم بہن بھائی اور والدہ اکٹھے رہے تھے ہماری وراثت میں ایک زمین تھی جو ہم تقریباً اڑھائی سال قبل فروخت کر کے اس کی رقم آ پس میں وراثت کی تربیت پر تقسیم کرلی تھی جبکہ میں اسوقت غیر شادی شدہ تھی اس لیے میرے بھائیو ں نے میرے حصے کی رقم اپنے پاس بطور امانت رکھ لی تھی اور مجھے بتا دیا تھا اب چونکہ میری شادی کو ایک سال ہوگیا ہے اس لئے بھائیوں نے کہا ہے وہ رقم ہم آپ کو حوالے کر دیتے ہیں اس صورت مسئلہ میں قابل دریافت یہ بات ہے کہ اس رقم پر زکوٰۃ جو مجھ پر آ تی ہے وہ کب سے آ تی ہے کیا گزشتہ اڑھائی سال کی بھی زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی یا وہ رقم میرے حوالے ہونے کے بعد سے زکوٰۃ کا حساب ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ میراث کا مال دین ضعیف ہے،اور دین ضعیف پر زکوٰۃ اس وقت واجب ہوتی  ہے کہ     مال پر  ملکیت اور قبضہ حاصل  ہو جائے۔

صورت مسئولہ کے مطابق میراث کی تقسیم کے بعد بھائیوں نے سائلہ کی رقم اپنے پاس رکھی،اور شادی کے ایک سال بعد یہ رقم سائلہ کو واپس دی گئی تو اس صورت میں تقسیم کے بعد اس رقم پر چونکہ قبضہ نہیں پایا گیا تھا کیو نکہ بھائیوں قبضہ میں تھا اس لیے گزشتہ مدت کی زکوٰۃ لازم نہیں ،اور  اب جب کہ سائلہ کو قبضہ دے دیا گیا تو اب اس رقم پر ایک سال گزرجانے کے بعد اس میں زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہو گی ،بشرطیکہ پہلے سے صاحب نصاب نہ اور اگر پہلے سے صاحب نصاب ہو تو اُسی نصاب پر سال پورا ہونے کے وقت اس مال کی زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔

 

‌ومنها ‌الملك ‌التام ‌وهو ‌ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة كذا في السراج الوهاج(الفتاوی الهندية،كتاب الزكاة،ج:1ص:233)

‌وأما ‌الدين ‌الضعيف فهو الذي وجب له  لا بدلا عن شيء سواء وجب له بغير صنعه كالميراث، أو بصنعه كالوصية، أو وجب بدلا عما ليس بمال كالمهر، وبدل الخلع، والصلح عن القصاص، وبدل الكتابة ولا زكاة فيه ما لم يقبض كله ويحول عليه الحول بعد القبض(البدائع الصنائع،كتاب الزكاة۔ج:2ص:392)

لأن ‌معنى ‌القبض ‌هو ‌التمكين، والتخلي، وارتفاع الموانع عرفا وعادة حقيقة۔(بدائع الصنائع۔كتاب البيوع،ج: 6 ص: 571)


فتویٰ نمبر : 9949/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں