بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 11/08/2026

دارالافتاء

 

کوئی چیز قسط وار خرید کر نقد فرخت کرنا


سوال

زید بکر سے ایک گاڑی قسط پر 7 لاکھ روپے میں خریدتا ہے اور پھر زید وہ گاڑی عمرو پر6 لاکھ نقد میں فروخت کرتا ہے تو کیا یہ معاملہ جائز ہے یا نہیں ۔ اور اگر زید وہ گاڑی واپس اسی بکر پر نقد 6 لاکھ میں فروخت کرتا ہے تو شریعت کی رو سے یہ جائز ہے یا نہیں ۔دونوں مسائل تفصیل سے بیان فرمائیں جزاک اللہ خیرا ۔

جواب

واضح رہےکہ کوئی چیز ادھار خرید کررقم مکمل ادا کرنے سے پہلے پہلے اسی فروخت کنندہ  پر نقد کم قیمت میں فروخت کرنا بیع عینہ کہلاتا ہے جس سے حدیث میں ممانعت آئی ہےالبتہ فروخت کنندہ کے علاوہ کسی دوسرے شخص پر نقد کم قیمت میں فروخت کرنا شرعا جائز ہے۔

لہذا صورت مسؤلہ میں اگر  زید  بکر سے قسط وار 7  لاکھ روپے میں گاڑی خرید کر عمرو پر 6 لاکھ میں نقد فروخت کرے تو یہ جائزہے۔ لیکن اگر زید رقم کی ادائیگی سے پہلے یہی  گاڑی واپس بکر پر 6 لاکھ میں فروخت کرے تو شرعا یہ نا جائز ہے۔

 

عن ابن عمر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا تبايعتم بالعينة، وأخذتم أذناب البقر ورضيتم بالزرع، وتركتم الجهاد سلط الله عليكم ذلا لا ينزعه حتى ترجعوا إلى دينكم» (سنن أبي داود،‌‌کتاب الاجارۃ،باب في النهي عن العينة،ج:2،رقم الحدیث:3462)

من اشترى شيئا بألف درهم (حالة أو نسيئة فقبضه ثم باعه من البائع بخمسمائة قبل نقد الثمن) ‌فالبيع ‌الثاني ‌فاسد۔۔۔إذا باع من غير البائع فإنه جائز أيضا بالاتفاق۔(العنايةشرح الهداية، كتاب البيوع، باب بيع الفاسد، ج:6،ص:433)


فتویٰ نمبر : 3506/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں