بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ڈاكٹر كے لیےفيس لينے كا حكم


سوال

ڈاکٹر کے لئے فیس لیناکیسا ہے؟

جواب

واضح رہے اگر کوئی شخص کسی کو جائزخدمات فراہم کرتا ہو اور ان خدمات کا معاوضہ طلب کرتا  ہوتو شرعاً یہ عقد اجارۃ کے حکم میں داخل ہےاور یہ ایک جائز عقدہے۔

صورت مسئولہ میں چونکہ ڈاکٹرمریض کے لیے اپنی خدمات فراہم کرتا ہےاور معائنہ کے لیے  وقت دے کر اپنے علم وتجربہ سے بیماری کی تشخیص کر کے دوائی تجویز کرتا ہے لہذا ڈاکٹر کے لیے اس کے عوض فیس لینے میں شرعاًکوئی حرج نہیں۔

 

(وأما بيان) (أنواعها) فنقول إنها نوعان: ‌نوع ‌يرد ‌على ‌منافع الأعيان كاستئجار الدور والأراضي والدواب والثياب وما أشبه ذلك ونوع يرد على العمل كاستئجار المحترفين للأعمال كالقصارة والخياطة والكتابة وما أشبه ذلك، كذا في المحيط۔(الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة، الباب الأول في بيان تفسير الإجارة وركنها،ج:4،ص:411)


فتویٰ نمبر : 3507/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں