بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 23/10/2026 |
دارالافتاء
وحیدالرحمن،عبدالوحیداوروحیدعبداللہ نام رکھنا
سوال
پوچھنا یہ ہے کہ وحید الرحمٰن اور عبد الوحید نام رکھنا کیسا ہے، مدلّل وضاحت فرمائیں کہ مستحسن بھی ہے یا نہیں؟اسی طرح کیا " وحید عبداللہ " نام رکھنا مستحسن ہے یا بدل دینا مستحسن رہے گا۔؟واضح رہے کہ میری خواہش ہے کہ محض جواز اور گنجائش کے بجائے مستحسن ہونے کی بھی رعایت رکھوں، آپ حضرات رہنمائی فرماکر ممنون فرمائیں۔
جواب
لفظ "وحید" لغوی معنی کے اعتبار سے " تنہا، یکتا، لا ثانی، بے مثال اور بے نظیر" کو کہتے ہیں، لہذا لغوی معنی کے اعتبار سے اس کا اطلاق اللہ تعالیٰ جل شانہ پر بھی اور بندوں پر بھی کیا جا سکتا ہے، چنانچہ قرآن کریم کی آیتِ مبارکہ ﴿ ذَرۡنِی وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِیدࣰا﴾ [المدثر ،آية ١١] کے تحت امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ نے لفظ"وحیدا" کو "خلقتُ" کی ضمیرِ فاعل اور ضمیرِمفعول محذوف دونوں سے حال ہونے کو جائز کہا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو لفظِ وحید کے ساتھ موصوف قرار دینا بھی درست ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات کے اعتبار سے تنہا، یکتا، بے مثال اور بے نظیر ہے، لہذا اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرتے ہوئے عبد الوحید نام رکھنا شرعاً درست ہے، البتہ اللہ تعالیٰ کی طرف اضافت کرتے ہوئے وحید الرحمن نام رکھنا مستحسن نہیں، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں یہ شخص اپنی ذات وصفات میں بے مثال اور بے نظیر ہے، جبکہ یہ بات حقیقت کے خلاف ہے۔ اسی طرح وحید عبد اللہ نام رکھنا بھی مستحسن معلوم نہیں ہوتا۔
أجمعوا على أن المراد هاهنا الوليد بن المغيرة، وفي نصب قوله وحيدا وجوه الأول: أنه نصب على الحال، ثم يحتمل أن يكون حالا من الخالق وأن يكون حالا من المخلوق، وكونه حالا من الخالق على وجهين الأول: ذرني وحدي معه فإني كاف في الانتقام منه والثاني: خلقته وحدي لم يشركني في خلقه أحد، وأما كونه حالا من المخلوق، فعلى معنى أني خلقته حال ما كان وحيدا فريدا لا مال له، ولا ولد كقوله: ولقد جئتمونا فرادى كما خلقناكم أول مرة.(التفسير الكبير لفخر الدين الرازي، ص:704، ج:30، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
(و) الواحد (: المتقدِّم فِي علم أو بأس) أو غير ذالك، كأنه لا مثل له، فهو وحده لذلك،. . . والواحِد بني على انقطاع النظير وعوز المثل، والوَحِيد بني على الوحدة والانفراد. . . (و) أوحدت (الشاة: وضعتْ واحدة) ، مثل أفذت وأفردت، وهي مُوحِدٌ ومُفِذٌ ومُفْرِدٌ، إذا كانت تلد واحدا، ومنه حديث عائشةَ تصف عمر، رضي الله عنهما (لله أم حفلت عليه ودرت، لقد أوحدت به) ، أي ولدته وحيدا فريدا لا نظير له. (تاج العروس،ج:9، ص:266)
وتقول: بقيت وحيدا فريدا حريدا بمعنى واحد.( لسان العرب،ج:15، ص:231)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں