بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

زندگی میں ایک بیٹے کے لئے پلاٹ خریدنا یا کچھ رقم الگ کرنا


سوال

میرا ایک بیٹا اورایک بیٹی شادی شدہ ہیں اور بر سر روزگار ہیں ،جبکہ ایک بیٹااور ایک بیٹیth 9 کلاس میں پڑھ رہے ہیں اور میرا بیٹا ذہنی طور پر کمزور ہے، میری ریٹائرمنٹ میں کچھ سال باقی ہیں تو ان کی شادی کی نیت سے اور کمزور بچے کی آمدن کی نیت سے پلاٹ خریدنا یا کچھ رقم الگ کرنا کیاجائز ہے؟

جواب

                ہرشخص اپنی زندگی میں بحالت صحت اپنی  مملوکہ جائیداد میں ہر قسم  کے جائز مالکا نہ تصرفات کر سکتا ہےجس میں ہبہ بھی داخل ہےچاہے اپنی اولاد کو ہبہ کرے یا کسی اجنبی کو،تاہم ہبہ تام ہونے کے لئے قبضہ شرط ہے،البتہ اگر اولاد میں کسی ایک کو ہبہ کرے اور وہ نابالغ ہو تو قبضہ ضروری نہیں فقط ایجاب  کرنے سے بھی وہ مالک بن جاتا ہےبشرط یہ کہ موہوبہ چیز معلوم ہو،لیکن ایسا طریقہ اختیار کرنا بھی جائزنہیں  جس میں کچھ ورثاء کے علاوہ باقی  محروم ہوجائیں۔

                صورت مسؤلہ میں سائل اگرچھوٹے بیٹے اور بیٹی کی شادی یا آمدن کی نیت سے پلاٹ خریدے لیکن ان کو ہبہ کئے بغیراپنی ملکیت میں رکھے تو تو شرعا اس میں کوئی حرج نہیں ،البتہ اگران کواس پلاٹ یا  رقم کا مالک بنانا چاہتا ہواور وہ بالغ ہوں تو ان کو قبضہ دینا ضروری ہے ،اور اگر وہ ابھی   نا بالغ ہوں تو قبضہ دینا ضروری نہیں صرف ہبہ کرنےسے بھی وہ مالک بن جائیں گے۔

 

 "ولا يتمّ حكم الهبة إلا مقبوضة،ويستوي فيه الأجنبيّ والولد إذا كان بالغاً ... هكذا في(المحيط). (الفتاوى الهنديه،كتاب الهبة،الباب الثاني:فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز،ج:4،ص:399)

"رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء،ويكون أثما فيماصنع"(الفتاوى الهندية،كتاب الهبة،الباب السادس في الهبة للصغير،ج:4،ص:417)

 "يشترط أن يكون الواهب عاقلاً بالغاً، فبناء عليه لا تصحّ هبة الصغيروالمجنون والمعتوه،وأما الهبة لهؤلاء  فصحيحة" (شرح المجله،سليم رستم باز،المادة:859,ص:472،ج:1)

 "يملك الصغير المال الذي وهبه إياه وصيّه،أو مربّيه يعني من يحفظه في حجره ويعوله سواء كان المال في يده أو كان وديعة عند غيره بمجرّد الإيجاب أو بمجرْد قول الواهب: (وهبت)، ولا يحتاج إلى القبض. أى أن هبة من له ولاية على الصغير كأبيه،ووصيّه،ومن يعوله كالأخ،والعمّ عند عدم الأب تتمّ بمجرّدالإيجاب فقط دون حاجة القبول والقبض بشرط أن يكون الموهوب معلوماً.(شرح المجلة،سليم رستم باز،المادة:851،ص:468،ج:1)


فتویٰ نمبر : 5776/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں