بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

مقروض کا قرض خواہ کو تحفہ دینا


سوال

میں ثواب کی نیت سے قصائی کو قرض دیتاہوں وہ خوشی سے کبھی بکری کی سری یا گوشت دے دیتا ہے، ایسا گوشت یا سری کھانا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ آپ  ﷺنے مقروض کی طرف سے تحائف قبول کرنے میں نہایت احتیاط برتنے کا حکم فرما یا ہے  چنانچہ اگر مقروض قرض خواہ کو کوئی چیز تحفے میں دے ، یا کھانے پر بلائے جبکہ  پہلےسے ان کے درمیان دعوت و ہدایا  کا کوئی  معمول نہ ہو یا قرض خواہ کو معلوم  ہو  کہ قرض کی وجہ سے وہ ہدیہ دے رہا ہے تو ایسی  دعوت یا ہدیہ قبول کرنا شرعا ً  مكروه  ہے۔

صورت مسؤ لہ میں اگر مقروض کی طرف سے تحفے وہدایا کے تبادلے  کا پہلے سے معمول ہو اور  قرض خواہ نے قرض  دیتے وقت اضافہ کی شرط  نہ لگائی ہو   تو قرض خواہ کے لیے مقروض کی طرف سے دیا گیا گوشت    کھانا جائز ہے  اور اگر  پہلے سے معمول نہ ہو تو قرض خواہ کے لئے   ایسی چیز کو قبول کرنا اور کھانا مکروہ ہے،جس سے بچنا ضروری ہے۔

 

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم «إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُكُمْ قَرْضًا فَأَهْدَي إِلَيْهِ أَوْ حَمَلَهُ عَلَى الدَّابَّةِ فَلَا يَرْكَبْهُ وَلَا يَقْبَلْهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ جَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ قَبْلَ ذَلِكَ»۔ ( رَوَاهُ ابْنَ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ)

قال محمد - رحمه الله تعالى - في كتاب الصرف إن أبا حنيفة - رحمه الله تعالى - كان يكره ‌كل ‌قرض جر منفعة قال الكرخي هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد بأن أقرض غلة ليرد عليه صحاحا أو ما أشبه ذلك فإن لم تكن المنفعة مشروطة في العقد فأعطاه المستقرض أجود مما عليه فلا بأس به"۔ (الفتاوى الهندية،كتاب البيوع،الباب التاسع عشر في القرض والاستقراض والاستصناع ج : 3 ص: 202)


فتویٰ نمبر : 5792/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں