بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

حلال جانور کی سرین کی ہڈی کو استعما ل میں لانا


سوال

ہمارے علاقے میں بعض لوگ حلال جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کی سرین کی ہڈی کو  گوشت اتارنے کے بعد توڑ کر پھینک دیتے ہیں اور وجہ یہ بتاتے ہیں کہ یہ حرام ہے جبکہ بعض اسکے حرمت کی یہ وجہ بتاتے ہیں کہ اس پر جادو کے اثرات ہوتے ہیں،تو پوچھنا یہ ہے کہ کیا واقعی سرین کی ہڈی شریعت کی  رو سے حرام ہے ؟

جواب

واضح رہے  کہ   حلال جانور میں سات اعضا کا کھانا جائز نہیں ،وہ سات اعضا یہ ہیں (1)بہتا ہوا خون (2)نر ومادہ جانور کیشرمگاہ (3)خصیتین (کپورے)(4)غدود(5)مثانہ(6)پتہ(7)حرام مغز۔ان سات اعضا میں  سرین کی ہڈی کا ذکر نہیں ،لہذا اس کو استعما ل میں لانا جائز ہے،اور  یہ کہناکہ" سرین کی ہڈی حرام  ہے کیونکہ اس پر جادوئی اثرات ہو تے ہیں "درست نہیں ،یہ محض بے بنیاد بات ہے۔

 

"وأما بيان ما يحرم أكله من أجزاءالحِوان المأكول، فالذي يحرم أكله منه سبعة: الدم المسفوح، والذكر، والأنثيان، والقبل، والغدة، والمثانة، والمرارة"۔ (بدائع الصنائع، كتاب الذبائح والصيود، فصل فيما يحرم أكله من أجزاء الحيوان، ج:6، ص:272)


فتویٰ نمبر : 9979/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں