بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

تقسيم ميراث سے پہلےوارث کا اپنے حصہ کو معاف کرنا


سوال

کیا تقسیم میراث سے پہلے وارث  اپنے حصئہ  میراث سے دستبر دار ہو سکتا ہے، اورکیا دستبرداری کے بعداسے رجوع کرنے کا  حق حاصل ہو تاہے؟

جواب

میراث ایک اضطراری حق ہے،  جو کسی کے ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتا  ،اس لیے  میراث  کی تقسیم سے پہلے  کسی وارث کا اپنے شرعی حصہ کو معاف کرنا شر عا معتبر نہیں، چنانچہ اگر کوئی وارث تقسیم میراث سے پہلے اپنے حق سے دستبردار ہو جائے تو یہ دستبرداری معتبر نہیں اور اسے مطالبے کا حق حاصل ہوگا البتہ ترکہ تقسیم ہو جائے، تو پھر ہر   وارث اپنے  حصے پر قبضہ کرنے کے بعداس میں جا ئز تصرف کر سکتا ہے  ،چنانچہ پھراگر اپنے حصے سےکسی کے حق میں دستبردار ہونا چاہے توشرعا اس میں کوئی حرج نہیں اور ایسی صورت میں اسےبعد میں رجوع کرنے کا  حق حاصل نہیں ہو تا۔

 

"الارث جبري لا يسقط بالاسقاط.(تكملۃ ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب الدعوی،باب التحالف،ج:11، ص:378)

"لو قال الوارث:تركت حقي لم يبطل حقه إذ المللك لا يبطل بالترك۔ "(شرح الأشباه والنظائر،ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لايقبله،ج:3،ص:52)


فتویٰ نمبر : 3577/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں