بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

صاحب نصاب شخص کا مال زکوۃ لینا


سوال

ہم دوبھائی ہیں اوردونوں شادی شدہ ہیں اور ساتھ رہتے ہیں ،میں بڑا بھائی ہوں میرے پاس چارلاکھ کی مالیت ہے اس کو میں نےکاروبار میں لگایا ہے ،میں مدرسے میں تدریس کرتا ہو ں اور ان پیسوں کے منافع سے گھر کا خرچہ چلاتا ہوں ،مدرسے کی تنخوا ہ بہت کم ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ بعض اوقات ہمارے رشتے دار مجھے پیسے دیتے ہیں وہ صرف میرے لیے نہیں ہوتے وہ گھر کے خرچے کے لئے دیتےہیں اگر چہ وہ اس بات کی تصریح نہیں کرتے ،تو میرا بھائی اور بیوی اور بھابھی مستحق زکوٰۃ ہیں لیکن وہ رشتے دار پیسے مجھے دیتے ہیں بڑا بھائی ہونے کے ناطے، کیا میں یہ پیسے وصول کرسکتا ہوں ان کو یہ بتائے بغیر کہ میں صاحب نصاب ہوں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر میں وہ پیسے وصول کرلوں اور کسی مستحق کو دے دوں تو کیا یہ جائز ہے ؟تیسرا سوال یہ ہے کہ اگر میں وہ پیسے اپنے استعمال میں لاؤ ں تو کیا یہ پیسے میرے لئے حرام ہونگے؟ چوتھا سوال یہ ہے کہ کیا ہرپیسے دینے والے کو یہ بتانا ہے کہ میں صاحب نصاب ہوں؟ نوٹ : ہرکسی کو میں بتابھی نہیں سکتا کہ میں صاحب نصاب ضروری ہو ں کیونکہ گھریلو اختلافات کا خدشہ ہے دوسری بات یہ ہے کہ ان رشتے داروں کی وجہ سے میں تدریس انجام دے رہا ہوں اور اگر ان کو نصاب کے بارے میں بتایا جائے تو وہ چارلاکھ کی مالیت سال ڈیڑھ سال میں ختم ہوجائےگی تو آپ صاحبان سے التماس ہے کہ کوئی  بہترطریقہ بتائیں تاکہ ان کی زکوٰۃ اد ا ہو جائے ۔

جواب

شرعی نقطہ نظر سے زکوۃ لینے کا مستحق وہ شخص ہے جو صاحب نصاب نہ ہو،اگر کسی شخص کے پاس نصاب کے بقدر مال موجود ہو تو ایسے شخص کے لیے زکوۃ لینا جائز نہیں۔ البتہ اگرغیر مستحق نے زکوۃ لے لیا تواس پر لازم ہے کہ  زکوہ دینے والے کو واپس کرے۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق سائل اگر چار لاکھ کا مالک ہے تو  صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے زکوۃ وصول نہیں کر سکتا، لہذا اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ مزکی کو  زکوۃ کی رقم واپس کرے، مستحقین کو نہ دے کیونکہ مستحقین کو دینے کے لیے اس کو وکیل  نہیں بنایا گیا ہے، اور نہ ان پیسوں کو اپنے استعمال میں لاناجائز  ہے، البتہ مزکی کی صحت زکوۃ کے لیے اتنا کافی ہے کہ اس کا  زکوۃ لینے والے کے بارے میں غالب گمان ہو کہ یہ مستحق زکوۃ ہے،سائل پر لازم ہے کہ مزکی کو بتائے کہ میں صاحب نصاب ہوں یا پھراپنی ملکیت میں موجود رقم گھر کے افراد میں سے کسی کو ہبہ کر کے اس کو قبضہ بھی دے دے، ایسی صورت میں جب صاحب نصاب نہ رہے گا تو پھر زکوۃ وصول کر سکتا ہے۔

 

لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة ۔(الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة،الباب السابع في المصارف، ج:1،ص:251،دار الفكر)

إذا شك وتحرى فوقع في أكبر رأيه أنه محل الصدقة فدفع إليه۔۔۔جاز بالإجماع۔( الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة،الباب السابع في المصارف، ج:1،ص:251،دار الفكر)

والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال ‌وجب ‌رده ‌عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه۔(رد المحتار على الدر المختار،مطلب فيمن ورث مالا حراما،ج:7،ص:301،دار الكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 9950/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں