بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

حنفی امام کا دوسرے مسلک کے مطابق نماز پڑھانا


سوال

ایک شخص ہے جو سعودی عرب میں امامت کرتا ہے اور وہ حنفی ہے مگر اس کا کفیل حنبلی طریقہ پر نماز پڑھواتا ہے تو اس صورت میں اس شخص کیلئے کیا حکم ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ کسی امام کےلیے  دوسرے مسلک کے مطابق نماز پڑھانااس وقت جائز ہے ،جب وہ غیر مسلک کے مطابق نماز پڑھاتے ہوئے ان امور کی رعایت رکھتا ہے  جن کے کرنے سے اس کے مسلک کے مطابق نماز فاسد نہیں ہوتی۔

صورت مسئولہ کے مطابق کسی حنفی شخص کے لیے حنبلی مسلک کے مطابق نماز پڑھانا اس وقت د رست ہو گا جب وہ حنفی مسلک کی بھی اس طرح رعایت کرے کہ اس کی نماز فاسد یا مکروہ نہ ہو۔

 

 ‌والذي ‌يميل ‌إليه ‌القلب عدم كراهة الاقتداء بالمخالف ما لم يكن غير مراع في الفرائض، لأن كثيرا من الصحابة والتابعين كانوا أئمة مجتهدين وهم يصلون خلف إمام واحد مع تباين مذاهبهم.( ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة،باب الإمامة، ج:١، ص:٥٦٤)

وأما الاقتداء بالمخالف في الفروع كالشافعي فيجوز ما لم يعلم منه ما يفسد الصلاة على اعتقاد المقتدي عليه الإجماع۔ (رد المحتار علی الدر المختار، كتاب الصلوة، باب الإمامة، ج:٢، ص:٣٠٢)


فتویٰ نمبر : 10053/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں