بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

غیر مستحق امام کو نذر کی رقم دینا


سوال

ایک شخص نے نذر مانی کہ اگر میرا بیٹا بخیریت بیرون ملک چلا جائے  تو میں اپنی مسجد کے امام کو سو روپے دوں گا۔ حالانکہ امام صاحب زکوٰۃ کے مستحق نہیں۔ پس بیرون ملک جانے کے بعد اس شخص نے وہ رقم امام صاحب کو دے دی۔ کیا امام صاحب کے لیے اب وہ رقم لینا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر  کوئی  نذر کو شرط  سے معلق کر ے تو شرط پوری ہو جانے کی صورت میں  نذر کی ادائیگی لازم ہوگی ۔صدقات واجبہ کی طرح  نذر کی رقم فقراء و مساکین کو دینا ضروری ہے ،تاہم اگر کوئی شخص کسی کے بارے میں پوچھ گچھ کرے اور اس کو مستحق سمجھ کر  صدقہ  واجبہ دے اور بعد میں وہ غیر مستحق ثابت ہو تو اس صورت میں اعادہ   لازم نہیں ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگرکوئی غالب گمان کے مطابق امام مسجد کو مستحق سمجھتے ہوئے نذر کی رقم دے  تو اس کی ادائیگی درست ہو گی لیکن اگر  اس کو یقین یا غالب گمان  تھا کہ اما م مسجد غیر مستحق ہے تو ادائیگی درست نہیں ہو گی ۔ نیز اگر امام  غیر مستحق تھا اور اسے علم تھا کہ یہ صدقہ واجبہ ہے تو اس کے لیے لینا جائز نہیں تھا ، لہذا اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اگر نذر کی رقم دینے والا  اسے معلوم ہو تو یہ رقم اس کو واپس کرے ،  لیکن  اگر مالک معلوم نہ ہو تو ذمہ فارغ کرنے کے لیے مستحقین کو دے۔

 

و فى القنية:نذر التصدق على الأغنياء لم يصح.( ردالمحتار على درالمختار ، كتاب الأيمان ،ج:5،ص:520)

‌والحاصل ‌أنه ‌إن ‌علم ‌أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه.(ردالمحتار على درالمختار ،كتاب البيوع ، مطلب فيمن ورث مالاحراماً، ج:7،ص:301)

إذا شك وتحرى فوقع في أكبر رأيه أنه محل الصدقة فدفع إليه أو سأل منه فدفع أو رآه في صف الفقراء فدفع فإن ظهر أنه محل الصدقة جاز بالإجماع، ‌وكذا ‌إن ‌لم ‌يظهر ‌حاله عنده، وأما إذا ظهر أنه غني أو هاشمي أو كافر أو مولى الهاشمي أو الوالدان أو المولودون أو الزوج أو الزوجة فإنه يجوز وتسقط عنه الزكاة في قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى.( الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة،في المصارف ، ج:1،ص:253)


فتویٰ نمبر : 9951/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں