بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نمازاستسقا کا طریقہ


سوال

نماز استسقا ء کا مکمل طریقہ بتائیں ،خطبہ کونسا پڑھیں اور دعا کیسے کریں؟

جواب

واضح رہے جو نماز بارش طلب کرنے کے لئے پڑھی جاتی ہے اس کو نماز استسقا کہا جاتا ہے، نمازاستسقا کا طریقہ یہ ہے کہ امام لوگوں کے ساتھ شہر سے باہر کھلے میدان کی طرف نکلے،وہاں دو رکعات نماز بغیر اذان و اقامت کے جہرا  قرات کے ساتھ اد ا کی جائے،نماز کے بعد امام  زمین پر کھڑے ہو کر کسی لاٹھی یا تلوار کو ہاتھ میں لیتے ہوئے اس پر ٹیک لگا کر لوگوں کی طرف رخ کرتے ہوئے جمعہ کی طرح  خطبہ پڑھے جس میں  کثرت سے استغفار کرے اور اس کے متعلق قرآنی آیات کی تلاوت کرے کیونکہ توبہ و استغفار ہی بارش کے نزول کا سبب ہے،پھر امام دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر دعا مانگے،اور دعا مانگتےوقت ہاتھوں کی پشت کو آسمان کی طرف اور ہتھیلی کو زمین کی طرف کرنا زیادہ بہتر ہے،اور مسنون ہے کہ دعا کے وقت امام  قبلہ رو ہو کر نیک فالی کے طور پر چادر کو پلٹائے،جس کی صورت یہ ہے کہ چادر کو کندھوں پر ڈالے پھر چادر کا جو کنارہ دائیں کندھے پر ہے اسے بائیں کندھے کی طرف کے جائے اور جو کنارہ  بائیں کندھے  پر ہے اسے دائیں کندھے کی طرف لے جائے۔

 

عن عباد بن تميم، عن عمه،أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‌خرج ‌بالناس ليستسقي فصلى بهم ركعتين، جهر بالقراءة فيهما، وحول رداءه، ورفع يديه، فدعا واستسقى واستقبل القبلة۔(سنن ابی داود،کتاب الصلاۃ،جماع صلاۃ الاستسقا تفریعھا،ج: 1ص:171)

وقال أبو يوسف ومحمد: يصلي الإمام بالناس ركعتين يجهر فيهما بالقراءة ثم يخطب ،ويستقبل القبلة بالدعاء ،ويقلب الإمام رداءه ولا يقلب القوم أرديتهم ولا يحضر أهل الذمة الاستسقاء۔(مختصر القدوری،كتاب الصلاة،بابالإستسقا،ص:107)

‌أن ‌يصلي ‌بهم ‌ركعتين ‌يجهر فيهما بالقراءة بلا أذان ولا إقامة ثم يخطب بعدها قائما على الأرض معتمدا على قوس أو سيف أو عصا خطبتين عند محمد وخطبة واحدة عن أبي يوسف حلية (قوله خلاف) ففي رواية ابن كاس عن محمد يكبر الزوائد كما في العيد والمشهور من الرواية عنهما أنه لا يكبر كما في الحلية ۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب الصلاة، باب الإستسقاء، ج:3 ص؛71

قال صاحب الهداية:الاستسقاء عندنا دعا واستغفار فتوهم منه بعض نفی الصلاة رأسا مع أنه قال بعيده:(قلنا إنه فعله مرة وتركه أخری فلم يكن سنة ) فخرج أنه أنكر السنية دون الجواز ۔۔۔۔ويقرأ فيها سرا ولا تسن الخطبة ولصاحبيه خلاف فيهما والعمل علی مذهب الصاحبين۔ (فيض الباری علی صحيح البخاری،أبواب الاستسقا، ج:2 ص:377)


فتویٰ نمبر : 9947/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں