بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

طلاق قبل النکاح کا حکم


سوال

میں ایک  برے  فعل  یعنی  مشت زنی  میں مبتلا   تھا  بہت تنگ ہو کر  میں نے یہ بولا  کہ اگر  پھر میں  نے  دو جمعہ تک   مشت زنی  کی  تو مجھ پر  میری بیوی  طلاق  ہے   میں نے   ابھی تک  صرف   منگنی کی ہے    شادی  نہیں  ہوئی ہے پھر  ایک  جمعہ  بعد  موبائل  میں  فحش  فلمیں دیکھ رہا تھا  میرا خود بخود احتلام  ہوگیا   ہا تھ  بھی   نہیں لگایا ہے کیا اب  بیوی طلاق ہے ؟

جواب

 واضح رہے کہ طلاق کے وقوع کے لئے  زوجیت (نکاح)کا ہونا ضروری ہے ،لہذااگر کوئی شخص نکاح سے پہلے کسی عورت کو طلاق دے دے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگرمحض منگنی ہوئی ہو ، نکاح نہ ہوا ہو تو کوئی طلاق واقع نہیں  ہوئی نیزاگر نکاح ہوا ہو تب بھی چونکہ سوال میں مذکورہ فعل مشت زنی میں داخل نہیں اس لیے طلاق نہیں ہوئی ،تا ہم  مشت زنی  یا فحش مواد دیکھنا ایک برا اور قبیح فعل ہےاس سے  توبہ اور استغفار لازمی ہے۔

 

عن علي بن أبي طالب، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:''‌لا ‌طلاق ‌قبل ‌النكاح''۔(سنن ابن ماجہ حدیث2048)

‌فإن ‌قال ‌لأجنبية إن دخلت الدار فأنت طالق ثم تزوجها فدخلت الدار لم تطلق " لأن الحالف ليس بمالك۔(الهداية،كتاب الطلاق،باب الآيمان في الطلاق،ج:2،ص564)

وشرطه ‌في ‌الزوج أن يكون عاقلا بالغا مستيقظا، وفي الزوجة أن تكون منكوحته أو في عدته التي تصلح معها محلا للطلاق۔ (فتح القدير، كتاب الطلاق ،ج:3،ص:463)


فتویٰ نمبر : 6905/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں