بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زکوۃ میں فلیٹ دینا


سوال

عرض یہ ہے کہ زید کو ایک شخص    زکوۃ  کی مد میں  فلیٹ دینا چاہتا ہے  ۔زید کا اپنا کوئی ذاتی گھر نہیں ہے بلکہ والد صاحب  کے ساتھ  رہ رہا ہے اور گھر کے خرچوں میں دوسرے بھائیوں کے ساتھ برابر کا شریک ہے ۔زید ماہانہ  تیس ہزار (30000)کما تا ہے  اور 40000 کا قرضہ بھی ہے ۔زید صاحب عیال بھی ہے اور خود صاحب نصاب نہیں البتہ اس کی  اہلیہ صاحب نصاب ہے   ۔(الف)اب  مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ زید کو جو شخص زکوۃ کی مد میں فلیٹ دے رہا ہے تو  کیا زید کا یہ فلیٹ لینا جائز ہے اور یہ کہ زید کو فلیٹ دینے سے  زکوۃ ادا ہوجائیگی۔(ب) یا زید  کو یک مشت ایک بڑی رقم دے دےزکوۃ کی مد میں تا کہ زید کوئی جگہ خرید سکے یا کوئی کاروبار شروع کر ے۔(ج)اگر جائز نہیں تو تفصیل ضرور تحریر فرمائیں کہ کیوں جائز نہیں یا زکوۃ ادا کیوں نہیں ہوگی ۔اور اگر کوئی ایسی صورت ہو کہ زید کو زکوۃ مل سکے تا کہ مکان کا مالک بن سکے تو ضرور تحریر فرمادیں؟

جواب

شریعت کی رو سے زکوۃ کی ادائیگی میں بنیادی شرط تملیک ہے یعنی ( مستحق کوزکوۃ کامالک بنایا جائے )اور زکوۃ کی ادائیگی جس طرح نقد رقم سے جائز ہے اسی طرح کسی اور جنس مثلا اشیاء استعمال،غذائی اجناس،کپڑے لباس وغیرہ سے یا مکان تعمیر کرکے  مستحق زکو ۃ کو مالک بنانے سے بھی زکوۃ ادا ہو جاتی ہے ۔

 نیز زکوٰۃ  میں اتنی  نقد رقم دینا جس سے مستحق  صاحب نصاب ہوجائے ،مکروہ ہے ،البتہ اگر وہ  قرض دار ہو یا کثیر العیال ہو یا اس کو کوئی اور سخت ضرورت پیش ہو تو نصاب کی مقدار کے برابر یا اس سے  زیادہ دینے میں بھی کوئی قباحت نہیں ،بلکہ فقہاء کرام  فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کے ذریعے  کسی کو دستِ سوال  دراز کرنے سے بچانا زیادہ افضل ہے ۔

لہذا صورت مسؤلہ میں مستحق کو   زکوٰۃ کی مد میں فلیٹ  ملکیت  میں دینا   جائز ہے ۔نیز  مستحق زکوۃ کویکمشت  بڑی رقم (نصاب  کے برابر یا زائد)اس نیت  سے زکوۃ دی جائے تا کہ وہ کوئی کاروبار شروع کر سکےیا اپنے لیے کوئی جگہ خرید سکے  تو اس سے  زکوۃ ادا ہوجائے گی،لیکن  نصاب کے برابر یا زیادہ  ہونے کی وجہ سے کراہت سے خالی نہیں     ۔البتہ جب مستحق کو ایک مرتبہ اتنی مقدار میں زکوۃ دے دی جائے کہ اس سے وہ صاحب ِ نصاب بن جائے تو اسے مزید زکوۃ نہیں دی جاسکتی۔

 

ويشترط ‌أن ‌يكون ‌الصرف (‌تمليكا) ‌لا ‌إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)۔ (رد المحتار مع الدر المختار،كتاب الزكاة،باب المصرف والعشر،ج:2،ص:344)

(ويكره أن يدفع إلى واحد مائتي درهم فصاعدا وإن دفع جاز).وقوله:(ويكره أن يدفع إلى واحد مائتي درهم فصاعدا) قيل:معناه إذا لم يكن له عيال ولا دين عليه،فأما إذا كان معيلا فلا بأس أن يعطيه مقدار ما لو وزعه على عياله أصاب كل واحد منهم دون المائتين لأن التصدق عليه في المعنى تصدق عليه وعلى عياله،وإذا كان عليه دين فلا بأس بأن يعطيه مائتين أو أكثر مقدار ما إذا قضى به دينه يبقى له دون المائتين...(فتح القدير،كتاب الزكاة،باب من يجوز دفع الصدقة اليه ومن لا يجوز،ج:2،ص:283).(وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق)وتعتبر القيمة يوم الوجوب.(رد المحتار على الدرالمختار،كتاب الزكاة،باب زكاة الغنم،ج:3،ص:210،211)


فتویٰ نمبر : 9964/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں