بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

"اَنْعَمْتَ"کی جگہ"اَنَعَمْتَ"پڑھنا


سوال

اگر کسی نے نماز میں سورت فاتحہ میں اَنْعَمْتَ کی جگہ اَنَعَمْتَ (بفتح النون) پڑھ لیا تو کیا نماز ادا ہو جائے گی؟ کیا اس سے معنی میں تغیر فاحش آتا ہے؟

جواب

دوران نماز قرات میں ہونے والی غلطی اگراعراب  کے اندرہو اوراس طور ہو کہ ایک حرکت کی جگہ دوسری حرکت یا حرکت کی جگہ سکون یا سکون کی جگہ حرکت پڑھی ہو تو متاخرین کے ہاں اس سےنماز فاسد نہیں ہوتی اوراِسی قول میں وسعت ہے، لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی نے نماز میں  "اَنْعَمْتَ"کی جگہ"اَنَعَمْتَ "پڑھ لیا تو اس  سے نماز فاسد نہیں ہوگی،البتہ احتیاطاً نماز دوبارہ پڑھ لے تو بہتر ہے۔

 

فاتفقوا على أن ‌الخطأ ‌في ‌الإعراب لا يفسد مطلقا ولو اعتقاده كفرا لأن أكثر الناس لا يميزون بين وجوه الإعراب. قال قاضي خان: وما قال المتأخرون أوسع، وما قاله المتقدمون أحوط.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلوة،باب زلة القارى،ج:1،ص:393)


فتویٰ نمبر : 9941/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں