بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

مہر میں طے شدہ سونے کی بجائے اس کی قیمت دینے کا حکم


سوال

ایک عورت کا  نکاح 2001 میں ہوا اور اس کا  حقِ مہر تین تولہ سونا مقرر ہوا ۔2015 میں اس کو طلاق ہوگئی لیکن  حقِ مہر اس کو ادا نہیں کیا  گیا۔ اب شوہر اس کو حقِ مہر میں سونے کے بدلے  پیسے دینا  چاہتا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ پیسے دینے میں کس وقت کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا، نکاح کے وقت کا، یا طلاق  کے وقت کا، یا ادائیگی کے وقت کا؟

جواب

واضح رہے کہ مہر عورت کا حق ہے اور جب تک شوہر بیوی کو مہر ادا نہیں کرے گا تو یہ اس کے ذمے واجب  رہے گا چنانچہ اِس کی ادائیگی شوہر پر لازم رہے گی۔ نیز زوجین کی باہم رضامندی سے مہر میں طے شدہ سونے کے بجائے اس کی قیمت بھی دی جا سکتی ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر شوہر  بیوی کی رضامندی سے، اس کو حقِ مہر میں طے شدہ سونے کی بجائے اس کی قیمت دینا چاہتا ہو، تو جس قیمت پر میاں بیوی دونوں راضی ہوں، شوہر وہ قیمت دے سکتا ہے۔

 

المهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق، كذا في البدائع. (الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، الفصل الثاني في ما يتأكد به المهر، ج: 1، صفحه: 370)

أنه لو وقع عن الدين بجنس آخر يحمل على المعاوضة. (تبين الحقائق، كتاب الصلح، باب الصلح في الدين، ج:5، ص:491)


فتویٰ نمبر : 6923/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں