بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مہر میں کمرہ بمع صحن لکھنا


سوال

شوہر نے بیوی کو مہر میں ایک کمرہ بمع صحن لکھا ہے، تو پوچھنا یہ ہے کہ شوہر کی وفات کے بعد اگر مہر نقدی کی صورت میں دیا جائے تو صرف کمرہ کی  مالیت کے برابرقیمت دی جائے گی یا اس کے ساتھ کمرے کا رقبہ اور زمین بھی شامل ہوگی اسی طرح صحن کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شوہر اگربیوی کو مہر میں متعین گھر یا زمین لکھ دے تووہ بیوی کی ملکیت بن جاتی ہے اور اس میں کسی کا کوئی حق نہیں ہوتا ،اسی طرح شوہر کے ذمے بیوی کے لیےمقرر کردہ تمام مہر  دینا واجب ہے ، اگر شوہر کا انتقال ہوجائے اور مکمل ادائیگی نہ کی ہو  تو اس کے میراث سے اس کی ادائیگی کی جائےگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق  شوہر نے بیوی کو مہر میں کمرہ بمع صحن لکھا ہے، تو  چونکہ اس سے مراد عرف میں رقبہ یعنی زمین ہی مراد ہوتی ہے، اس لیے  مہر میں دیا ہوا "کمرہ بمع صحن"  سے اس کا رقبہ ہی مراد ہوگا، چنانچہ اگر شوہر فوت ہوا ہے اور اب تک وہ مہر میں لکھا گیا " کمرہ بمع صحن "اس کو حوالہ نہ کیا ہو  تو اس کے ترکہ سے اس کی ادئیگی کی جائے گی، اور  بیوی اگراس کمرے اور صحن کے بدلے نقدی لینےپر راضی ہو، تو کمرے اور صحن کی زمین کی قیمت ادا کرنا ضروری ہوگا۔

 

وقال الإمام الكرخي؛ المهر لا يكون إلا ما هو مال أو ما يوجِب تسليم مال.(الفتاوى التاتارخانية،کتاب النکاح،الفصل السابع عشر  في المهر،ج:4،ص159،مكتبه زكريا ديوبند)

أما الأول: فلأن ‌المسمى ‌دين ‌في ‌ذمته وقد تأكد بالموت فيقضى من تركته(البناية شرح الهداية،كتاب النكاح،باب المهر، ج:5، ص:195،دار الكتب العلمية)

(وجاز التصرف في الثمن) بهبة أو بيع أو غيرهما لو عينا: أي مشارا إليه ولو دينا فالتصرف فيه تمليك ممن عليه الدين ولو بعوض ولا يجوز من غيره. ابن ملك (قبل قبضه) سواه (تعين بالتعيين) كمكيل (أولا) كنقود فلو باع إبلا بدراهم أو بكر بر جاز أخذ بدلهما شيئا آخر (‌وكذا ‌الحكم ‌في ‌كل ‌دين قبل قبضه كمهر وأجرة وضمان متلف) وبدل خلع وعتق بمال وموروث موصى به. والحاصل: جواز التصرف في الاثمان والديون كلها قبل قبضها.(الدر المختار على صدر رد المحتار،كتاب النيوع، باب المرابحة والتولية، ج:5، ص:153)


فتویٰ نمبر : 6883/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں