بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

کٹے ہوئے اعضاء کو غسل دینا


سوال

اگر کسی شخص سے بیماری کی وجہ سے پاؤں کاٹ دیاجائے تو کیا  اس کٹے ہوئے پاؤں کو غسل اور کفن وغیرہ دیاجائے گا یانہیں؟

جواب

واضح رہے كہ کٹے ہوئے عضو کو  نہ تو غسل دیا جائے گا اور نہ ہی اس کا جنازہ پڑھا جائے گا، تاہم اسے کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیا جائے گا۔لہذاصورت مسئولہ کے مطابق کسی شخص کا پاؤں اگر کاٹ دیاجائے تو اس کٹے ہوئے پاؤںکو  غسل نہیں دیاجائے گا بلکہ اس کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کیاجائےگا ۔

 

وإن وجد نصفه من غير الرأس أو وجد نصفه مشقوقًا طولًا؛ فإنه لايغسل ولايصلى عليه، ويلف في خرقة ويدفن فيها، كذا في المضمرات.(الفتاوی الهنديه،الباب الحادي وعشرون في الجنائز،الفصل الثاني في غسل الميت،ج:1،ص:159)


فتویٰ نمبر : 5757/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں