بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

حنفی شخص کا اول وقت میں شافعی المسلک امام کے پیچھےنماز پڑھنا


سوال

ایک حنفی المسلک شخص نے قطرمیں 45  دن تک عصر کی نماز   شافعی المسلک امام کے پیچھے پڑھی ہے جو کہ ا ن کے وقت کے مطابق تھی اور حنفی مسلک کے  مطابق وہ وقت ظہر کا تھا اب یہ شخص 45 دن کی عصر نماز کوجو اس نے قطر میں پڑھی ہے  دوبارہ لوٹائے گا یانہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ائمہ  احناف کے عصر کے وقت میں دواقوال ہیں: امام صاحب کے نزدیک ظہر کا وقت اس وقت ختم ہوتا ہے جب سایہ اصلی کے علاوہ  ہر چیز کا سایہ دو مثل ہوجائے ، جبکہ صاحبین کے نزدیک  جب ہر چیز کا سایہ سوائے سایہ اصلی کے  ایک مثل ہوجائے تو  ظہر کا وقت ختم ہوکر عصر کا وقت شروع ہوجاتاہے۔

صورت مسئولہ میں حنفی المسلک شخص نے  عصر کی جو نمازیں شافعی المسلک امام کے پیچھے پڑی ہیں وہ نمازیں درست ہیں کیونکہ احناف میں سے صاحبین کے ہاں اس وقت عصر  کا وقت داخل ہوتاہے   اس لیے  ان نمازوں کو لوٹانے کی  ضرورت نہیں ۔

 

 (ووقت الظهر من زواله) أي ميل ذكاء عن كبد السماء (إلى بلوغ الظل مثليه) وعنه مثله، وهو قولهما وزفر والأئمة الثلاثة. قال الإمام الطحاوي: وبه نأخذ. وفي غرر الأذكار: وهو المأخوذ به. وفي البرهان: وهو الأظهر. لبيان جبريل. وهو نص في الباب. وفي الفيض: وعليه عمل الناس اليوم وبه يفتى (سوى فيء) يكون للأشياء قبيل (الزوال) ويختلف باختلاف الزمان والمكان، ولو لم يجد ما يغرز اعتبر بقامته وهي ستة أقدام بقدمه من طرف إبهامه(ووقت العصر منه إلى) قبيل (الغروب).(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة،ج:1،ص:359)


فتویٰ نمبر : 9940/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں