بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

ادھار خرید کر نقدکم قیمت پر فروخت کرنا


سوال

میرے اوپر قرض ہے  لیکن میرے پاس قرض کی ادائیگی کے لیے  رقم نہیں ہے اس  لئے اگر میں کسی سے سات یا آٹھ مہینے کے وقت پر کوئی چیز خرید لوں اور اس چیز کو کسی اور پر کم قیمت  میں فروخت کروں  اور  اس سے قرض ادا کروں تو یہ معاملہ درست ہے یا نہیں؟

جواب

 اگر کوئی شخص کسی سےکوئی چیز ادھار پر  خریدے اور پھر اس کو کسی تیسرے شخص  پر  نقد کم قیمت میں فروخت کر کے اپنی ضرورت پوری کرے تو  شرعاً اس کی گنجائش ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق سائل کے لئےکوئی چیزادھار خرید کر کسی تیسرے شخص کو  نقد  کم قیمت میں فروخت کرنے کی گنجائش ہے ۔تاہم یہ معاملہ کسی  سخت ضرورت کے بغیر نہ کیا جائے،اور نہ ہی اس کو عادت  بنایا جائے۔

 

من اشترى شيئا بألف درهم (حالة أو نسيئة فقبضه ثم باعه من البائع بخمسمائة قبل نقد الثمن) فالبيع الثاني فاسد ۔۔۔وحاصل ذلك أن شراء ما باع لا يخلو من أوجه: إما أن يكون من المشتري بلا واسطة أو بواسطة شخص آخر. والثاني جائز بالاتفاق مطلقا: أعني سواء اشترى بالثمن الأول أو بأنقص أو بأكثر أو بالعرض. والأول إما أن يكون بأقل أو بغيره، والثاني بأقسامه جائز بالاتفاق۔۔۔وبما ‌إذا ‌باع ‌من ‌غير ‌البائع فإنه جائز أيضا بالاتفاق۔(العناية شرح الهداية،ج:6،ص:433)

وإلا ‌فلا ‌كراهة ‌إلا ‌خلاف ‌الأولى على بعض الاحتمالات كأن يحتاج المديون فيأبى المسئول أن يقرض بل أن يبيع ما يساوي عشرة بخمسة عشر إلى أجل فيشتريه المديون ويبيعه في السوق بعشرة حالة، ولا بأس في هذا. (فتح القدير شرح الهداية، كتاب الكفالة،ج:7، ص:213)


فتویٰ نمبر : 3499/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں