بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

بینک میں چوکیداری کرنا


سوال

میں ایک سودی بینک  میں بطور سیکیورٹی ڈیوٹی کرتا ہوں ،اور بینک کی طرف سے چوکیداروں کو چائے دی جا تی ہے  کیا ہم وہ چائے پی سکتے ہیں شریعت کا کیا حکم ہے؟ اور وہاں نماز پڑھنا کیسا ہے؟ کیونکہ ہم کو جمعہ کی نماز کے علاوہ   مسجد جانے کی اجازت نہیں   اور میرا سو فیصد ارادہ ہے کہ میں یہ نوکری تب چھوڑوں گا جب دوسری نوکری مل جائے  میں بہت مجبور ہو ں اس لئے یہ گارڈ کی نوکری کر رہا ہوں؟

جواب

کسی سودی بینک یا دوسرے سودی ادارے میں ایسی ملازمت  جس میں براہ راست سود دینے،لینے ، لکھنےاور گواہ بننے کی ذمہ داری اٹھانی نہ پڑے  شرعاایسی ملازمت اختیار کرنے کی گنجائش ہے  جیسے بینک کا سیکورٹی گارڈ ،ڈرائیور وغیرہ ۔ اسی طرح بینک کی طرف سے جو چائے ملے اس کا پینا بھی جائز ہے ،اور  اگر بینک کی طرف سے مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت نہ ہو توبینک میں نماز پڑھنا جائز ہے،   تاہم  چونکہ سودی ادارے کے اندر ملازمت  کچھ نہ کچھ حد تک  تعاون کر نے کے مترادف ہے اس لئے بہتر ہے کہ آدمی   کسی اور جگہ ملازمت تلاش کر کے اس کو چھوڑ دیاجائے ۔

 

عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء»۔(صحيح مسلم،كتاب البيوع ،ج:2،ص:27)

ولو استأجر الذمي مسلما ليبني له بيعة أو كنيسة جاز ويطيب له الأجر۔(الفتاوى الهندية،كتاب الاجارة،ج:4،ص:487)


فتویٰ نمبر : 5761/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں