بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

پرسنل ایزی پیسہ اکاؤنٹ کو استعمال کرکے اس پر چارجز لینا


سوال

 میرا پرسنل ایزی پیسہ اکاؤنٹ ہے جس پر مجھے لوگ پیسے بھیجتے ہیں اورمیں انکو کیش دیتا ہوں۔اب اگر میں اس رقم کو کسی ایزی پیسہ ریٹیلرز سے نکلواتا ہوں تو ایک ہزار کے بدلےمجھ سے 20 روپے کاٹتے ہیں اس لیے میں اس رقم کو اپنے ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں چھوڑتا ہوں یا اپنے بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرتا ہوں اور ان سے اتنی رقم لیتا ہوں جو ایزی پیسہ ریٹیلرز لیتے ہیں تو کیا میرے لیےیہ جائز ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے خدمات  کے عوض اجرت حاصل کرنا اجارہ کہلاتا ہے عقد اجارہ کی صحت کے لئے جو شرائط ہیں ان کی رعایت رکھتے ہوئے اجارہ کا عقد کرنا جائز ہے ۔

صورت مسئولہ میں سائل کا اپنے پرسنل ایزی پیسہ  اکاؤنٹ کو استعمال کرکے کسٹمر کومذکورہ خدمات مہیا کرنے پر بیس روپے لینا جائز ہے ، تاہم کسٹمرکو اجرت سے متعلق پہلے آگاہ کردینا ضروری ہےتاکہ بعد میں باہم تنازع کا سبب نہ بنے۔

 

(فالأول من يعمل لا لواحد ) كالخياط ونحوه ( أو يعمل له عملا غير موقت.....(ولا يستحق المشترك الأجر حتى يعمل).(الدر المختار ، كتاب الإجارة ، باب ضمان الأجير ، ج:9ِ، ص:94)

وان وردت الإجارة على العمل كالخياطة و الصبغ ،  فلا يجب الأجر مالم يفرغ الأجير من العمل. (شرح المجلة لسليم رستم باز، كتاب الإجارة ، الباب الثالث ، ص:265)


فتویٰ نمبر : 3498/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں