بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

رضاعی بہن کی نسبی بہن سے نکاح کرنا


سوال

زید کی ماں نے ایک بچی کو دودھ پلایا  ہےاس  بچی کا نام فاطمہ ہے اب زید فاطمہ کی بہن رضیہ سے شادی کرنا چاہتا ہے کیا یہ شادی کرنا جائز ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے دودھ پینے والے بچے کے لیے دودھ پلانے والی عورت اور اس کے اصول وفروع سے نکاح کرناجائز نہیں لیکن یہ حرمت صرف اس دودھ پینے والے کے ساتھ خاص ہے، اس کے دوسرے بہن بھائیوں کےلیے اس مرضعہ اور اس کے اصول وفروع کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں  زید کے لیے فاطمہ کی بہن رضیہ سے نکاح کرنا جائز ہے، بشرط یہ کہ حرمت کی کوئی اور وجہ موجود نہ ہو۔

 

لو كانت أم البنات أرضعت أحد البنين وأم البنين أرضعت إحدى البنات لم يكن للابن المرتضع من أم البنات أن يتزوج واحدة منهن وكان لإخوته أن يتزوجوا بنات الأخرى إلا الابنة التي أرضعتها أمهم وحدها لأنها أختهم من الرضاعة۔ ( ردالمحتار على الدر المختار، كتاب النكاح، باب الرضاع، ج:4، ص:411)


فتویٰ نمبر : 6880/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں