بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

بیوی کے انتقال کے بعد مہرکی ادائیگی کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا مہر تیس تولہ سونا مقرر  کرے اور ادا نہ کرے یہاں تک کہ اس کی بیوی کا انتقال ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا مہر معجل یا مؤجل ادا نہ کرے اور نہ ہی اس کی بیوی نے بخوشی معاف کیا ہو تو یہ اس کے ذمہ قرض بن جاتاہے،جس کا ادا کرنا ضروری ہے،لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا  حق مہر تیس تولہ سونا مقرر کرے اور ادا  نہ کیا ہو یہاں تک کہ اس کی بیوی کا انتقال ہوجائے تومہر شوہر کے ذمہ قرض ہے  جو اب مرحومہ کا میراث ہوگا،لہذااس کے بقیہ ترکہ میں شامل ہوکر شرعی حصوں کے مطابق ورثاء میں تقسیم ہوگا۔

 

والمهر ‌يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء.(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،الباب السابع في المهر وفيه سبعة عشر فصلا،الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة،ج:1،ص:303)


فتویٰ نمبر : 6877/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں