بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

آٹھ سال کی عمر میں ادا کئے ہوئےحج کا حکم


سوال

ایک عورت ہے جو اپنی عمر کے آٹهويں سال  ماں باپ کے ساتھ حج کے سفر میں تھی اور تمام ارکان حج ادا کئے تھے اب اس عورت کی عمر 37 سال ہے اور حالاً اس پر حج واجب ہے اور استطاعت بھی رکھتی ہے، تو پوچھنایہ ہے کہ کیا سات سال کی عمر میں اس نے جو حج ادا کیا تھا اس سے فریضہ حج اس کے ذمے سے ساقط ہوا ہے یا  نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت نے احکام شرعیہ کا مکلف اور پابند ہونے کے لیے  دارومدار بلوغ  کو قرار دیا ہے ، بلوغ سے پہلے  احکام شرعیہ متوجہ نہیں ہوتے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق  بلوغ سے پہلے بچپن میں ادا کیا ہوا حج معتبر نہیں،  کیونکہ اس وقت وہ  مکلف نہیں تھی، لہذا اب اگر وہ حج پر جانے کی استطاعت رکھتی ہے تو اس پر حج فرض ہوگا۔

 

(ومنها البلوغ) فلا يجب على الصبي كذا في فتاوى قاضي خان ولو أن الصبي حج إذاً ‌قبل ‌البلوغ فلا يكون ذلك عن حجة الإسلام ويكون تطوعا.(الفتاوى الهندية، كتاب الحج، ج:1، ص:217)

ومن الشرائط: الاستطاعة، وهي ‌أن ‌يملك ‌مالا ‌فاضلا عن مسكنه، وفرسه، وثياب بدنه، وسلاحه، ونفقة عياله وأولاده الصغار، مدة ذهابه وإيابه، وأن يكفي ذلك الفاضل للزاد والراحلة محملا، أو زاملة، أو شق محمل كان عليه الحج.( خزانة المفتين، كتاب الحج،ص:1054، )

 الرابع المحرم أو الزوج لامرأة بالغة ولو عجوزاً أو معها غيرها من النساء الثقات والرجال الصالحین وتجب عليها النفقة والرحلة لمحرمها؛ لأنه محبوس عليها. (غنية الناسك في بغية المناسك، ص: 26)


فتویٰ نمبر : 9939/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں