بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

شوہر کا بیوی کے ترکہ میں استحقاق


سوال

ایک لڑکی کے اولیاء  نے چند سال پہلے لڑکی کی رضامندی سے کسی شخص کے ساتھ اُس   کانکاح کرایا اور مہر معجل تیس تولہ سونا مقرر ہواجو بیوی کی وفات تک شوہر نے  ادا نہیں کیا اور نکاح کے وقت  شوہر نے اسٹام پیپر پردستخط کر کےدرجہ ذیل شرائط   کااقرار کیاتھا (1)  بیوی کے بنام زرخرید ایک عدد مکان  یا  جس قدر جائیداد خریدےتو شوہر کاکوئی غرض واسطہ نہ ہوگا (2)دونوں فریقین کا ایک دوسرے کے جائیداد کے ساتھ زندگی اور بعد وفات کوئی سروکار قانونی،شرعی اور رواجی نہ ہوگی۔چند سال بعد بیوی کا انتقال ہوگیا تو پوچھنا یہ ہے کہ اس نے جو ذاتی ترکہ میں سونا اور ایک عدد مکان چھوڑا ہے اس میں شوہر کا حق ہے یانہیں ؟

جواب

مورث کی زندگی میں اپنے حصے سے دستبردار ہوجانا شرعا معتبر نہیں ،فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق میراث ایک غیر اختیاری حق ہے ،جو ساقط کرنے سے بھی ساقط نہیں ہوتا ۔لہذاصورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی  شخص اپنی بیوی  کی زندگی میں  اس کے ساتھ ، اس کے ترکہ میں حصہ نہ لینے کا اقرار کرتا ہو اور اسٹام پیپر پر دستخط بھی کرے تو اس سے اس کا حصہ ساقط نہیں ہوتا ،بلکہ اس کا حق میراث بدستور باقی رہتا ہے لہذا اگر بیوی پہلے فوت ہوجائےتو اس کو اپنے حقِ میراث کے مطالبہ کا حق حاصل رہے گا ۔

 

الإرث جبري لايسقط بالإسقاط.(رد المحتار على الدر المختار:كتاب الدعوى،باب التخالف ج:11،ص:678)

لو قال الوارث:تركت حقي لم يبطل حقه إذالملك لا يبطل بالترك.(شرح الأشباه والنظائر:ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لا يقبله،ج3،ص52)

ولو قال ‌تركت ‌حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لان الارث جبري لا يصح تركه.(تكملة رد المحتار على الدر المختار،باب دعوى النسب،ج:8،ص:208)


فتویٰ نمبر : 3559/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں