بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 28/08/2026

دارالافتاء

 

رہن رکھنے کی شرط پر عقد اجارہ کرنا


سوال

اکمل  کے پاس ایک کنال زمین ہے ،ہاشم  اکمل سے کہتا ہےکہ تم مجھے یہ زمین اجارہ پر دے دو،لیکن اکمل  کہتا ہےکہ میں  تمہیں  یہ زمین اس شرط پر دوں گا کہ تم میرے پاس 30ہزار روپے بطور رہن رکھے گے، تو  یہ معاملہ شرعاً جائز ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی اپنی زمین کواجارہ پر دینا چاہتا ہے اور رہن رکھنے کی شرط لگائے تو ایسا عقد جائز ہے،البتہ جو رقم بطور رہن رکھے اس کو محفوظ رکھ کر اس  کو اپنے استعمال میں لانے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر اکمل ،ہاشم کو ایک کنال زمین اجرت پر دینا چاہتا ہوتواس کے عوض  ہاشم سے کچھ رقم بطور رہن  وصول کرسکتا ہے ،البتہ جو رقم بطور رہن  وصول کرے اس کا  استعمال کرنا جائز نہیں  چاہے راہن کی اجازت ہو یانہ ہو۔

 

ولو استأجر دارا أو شيئا وأعطى بالأجر ‌رهنا ‌جاز.(الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة،الفصل الرابع فيما يجوز رهنه وما لا يجوز،ج:5،ص:435)

(لا ‌انتفاع ‌به ‌مطلقا) لا باستخدام، ولا سكنى ولا لبس ولا إجارة ولا إعارة، سواء كان من مرتهن أو راهن (إلا بإذن) كل للآخر،وقيل لا يحل للمرتهن لأنه ربا،وقيل إن شرطه كان ربا وإلا لا....لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا فيكون ربا، وهذا أمر عظيم.(ردالمحتار مع الدرالمختار،كتاب الرهن،ج:،ص:482)


فتویٰ نمبر : 3494/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں