بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

یکطرفہ عدالتی تنسیخ نکاح کاحکم


سوال

وجیہ ولدسلطان علی کانکاح نادر خان کی ساتھ ہوا رخصتی کے ابتدائی ایام تو کچھ گزارہ ہوالیکن کچھ دنوں کے بعد خاوند نے بیوی پر ظلم وستم شروع کردیا ابتدا میں تو بیوی نے اس کے ظلم برداشت کئے لیکن آخرکار مجبور ہوکر والدین کے گھر چلی گئی کچھ مہینے والدین کے گھر گزاری  ، اسی دوران خاوند نےنہ  کوئی خبرگیری کی اور نہ ہی خرچہ دیاجس کی وجہ سے  بیوی نے عدالت  میں تنسیخ نکاح کی درخواست دائر کردی، جج صاحب نے ایک تاریخ دی لیکن خاوند حاضر نہ ہو اپھردوسری  اورتیسری تاریخ کو بھی حاضر نہ ہوااور نہ کوئی صلح ہوا اور اس کو عدالت نے مسلل  تاریخیں دیں  لیکن خاوند حاضر نہ  ہوتاتھا ، جج صاحب نے  مجبور ہوکر تنسیخ نکاح کاحکم جاری کردیا ، توکیا حکومت کے اس طرح یک طرفہ فیصلہ کی وجہ سے میاں بیوی کانکاح ختم ہوسکتاہے یا خاوند کاطلاق دینا ضروری ہوگا؟

جواب

میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات قائم ہونے کے بعد اگر شوہر باوجود قدرت کے بیوی کے حقوق اور نان نفقہ وغیرہ کی ادائیگی سے انکار کرے جس کی وجہ سے عورت کے لیے خاوند کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہو تو ایسی صورت میں اصل حکم تو یہ ہے کہ عورت شوہر کو طلاق یا خلع پر راضی کرکے اس سے چھٹکارا حاصل کرے تا ہم اگر شوہر نہ حقوق ادا کررہا ہو اور نہ ہی طلاق یا خلع پر راضی ہوتا ہو تو ایسی صورت میں شوہر متعنت کہلاتا ہے اور متعنت کی بیوی کو مسلمان حاکم یا عدالت کی طرف رجوع کرنے کا اختیار ہے۔عدالت کی طرف رجوع کرنے کے بعد اگر عدالت نے مکمل تحقیق کی اور عورت نےشوہر کے ظلم و ستم کو ثابت کیاتو عدالت شوہر کو حکم دے گی کہ یا تو بیوی کو صحیح طریقے سے آباد کرے یا طلاق دے اگر وہ آباد کرے تو ٹھیک ،اگر انکار کرے یا عدالت کا سمن ملنے کے باوجود عدالت میں شوہر یا اس کا وکیل حاضر نہ ہو اور بیوی اس کی زوجیت سے نکلنا چاہتی ہو تو تب عدالت عورت کو تنسیخ نکاح کی ڈگری دے سکتی ہے اور یہ تنسیخ شرعا ًمعتبر ہوگی اور عدت گزرنے کے بعد یہ عورت دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر عدالت نے ذکرکردہ وجوہات کی بنا پر میاں بیوی کے درمیان فسخ نکاح کا فیصلہ کیا ہو تو شرعا عدالت کی یہ ڈگری فسخ نکاح کے حوالے سے معتبر ہوگی اور عدت گزرنے کے بعد یہ عورت دوسری جگہ نکاح کرسکتی  ہے۔

 

قال الله تعالی :فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ.(البقرۃ :229)

وإذا تشاق الزوجان وخافاأن لايقيماحدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسهامنه بمال يخلعها به.(الهداية، ج:2، ص:404)

وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير ما نصه إن منعها نفقةالحال فلها القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق و إلا طلق عليه ،قال محشيه أي طلق عليه الحاكم.(الحيلة الناجزة ، ص:133)

إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء.(الفتاوى الهندية ، ج :1، ص:526)


فتویٰ نمبر : 6876/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں