بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

ناپاک کپڑوں میں نماز پڑھنا


سوال

اگرکپڑے نا پاک ہوں تو تیمم کے ساتھ نماز کیسے ادا کریں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی کے کپڑو ں پرنجاست لگی ہو  اور پاک کرنے کے لیے پانی  نہ ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں:اگر کپڑوں کا چوتھائی یا چوتھائی سے زیادہ حصہ پاک ہو تو انہی کپڑوں میں نماز پڑھنا جائز ہے اور اگر چوتھائی سے کم حصہ پاک ہو تو اسے اختیار ہے ،چاہے ان کپڑوں میں نماز ادا کرے یا کپڑوں کے بغیر نماز ادا کرے۔

لہذا صورت مسؤلہ میں اگر وضو اور کپڑے پاک کرنے کے لیے پانی موجود نہ ہو  تو تیمم کر ے اور کپڑوں کا چوتھائی یا اس سے زیادہ حصہ پاک ہو تو انہی کپڑوں میں نماز پڑھے اور اگر چوتھائی سے کم حصہ پاک ہو تو نمازی کو اختیار ہے چاہے تو انہی کپڑوں میں نماز ادا کرے یا کپڑوں کے بغیر نماز ادا کرے۔

 

قال: " ومن لم يجد ما يزيل به النجاسة صلى معها ولم يعد " وهذا على وجهين إن كان ربع الثوب أو أكثر منه طاهرا يصلي فيه ولو صلى عريانا لا يجزئه لأن ربع الشيء يقوم مقام كله وإن كان الطاهر أقل من الربع فكذلك عند محمد رحمه الله ... لأن في الصلاة فيه ترك فرض واحد وفي الصلاة عريانا ترك لفروض، وعند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله يتخير بين أن يصلي عريانا وبين أن يصلى فيه.(الهداية،كتاب الصلاة،باب شروط الصلاة التي تتقدمها،ج:1،ص:46)

وجد ثوبا ربعه طاهر وصلى عاريا لم يجز. وإن كان أقل من ربعه طاهرا أو كله نجسا خير بين أن يصلي عاريا قاعدا بإيماء وبين أن يصلي فيه قائما بركوع وسجود وهو أفضل.(الفتاویٰ الهندية،كتاب الصلاة،الباب الثالث في شروط الصلاة، الفصل الثاني في طهارة ما يستر به العورة وغيره، ج:1، ص:60)


فتویٰ نمبر : 10030/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں