بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

بیوی کو " ترورے لگی اوبہ خو راکہ" کے الفاظ کہنے کا حکم


سوال

میرا ایک دوست ہے اس کی عادت اور تکیہ کلام ایسا ہے کہ ہر کسی کو" ماما، ماما زویہ، ترورے، ترورے زویہ"(پھوپھی،  ذرا پانی تو دے دو)جیسے الفاظ سے پکارتا ہے، خواہ گھر میں ہو یا باہر ہو۔چنانچہ اس کی بیوی ایک مرتبہ ایک کام میں مشغول تھی اورمیرے دوست کو پانی کی ضرورت تھی تو اس نے اپنی  بیوی سے کہا "ترورے لگی اوبہ خو راکہ" اب ایک شخص ان سے یہ کہہ رہا ہے کہ آپ کی اس بات کی وجہ سے آپ کی بیوی آپ سے جدا ہوگئی ہے، تو کیا اس آدمی کی بات درست ہے یا نہیں؟ کیونکہ میرے دوست کا ان الفاظ سے طلاق  وغیرہ کا بالکل بھی ارادہ نہیں تھا بلکہ صرف پانی مانگنا  مقصود تھا۔

جواب

واضح رہے کہ شوہر اگر بیوی کو محرمات ابدیہ میں سے کسی رشتہ کے ساتھ محض مخاطب کرے مثلاً اے بہن ، اے بیٹی وغیرہ تو صرف مخاطب کرنے سے ظہار ثابت نہیں ہوتا ہے جب تک تشبیہ نہ دی ہواور یا نیت نہ کی ہو۔تاہم یہ الفاظ کہنا مکروہ ہے۔

صورت مسئولہ میں مذکورہ الفاظ"ترورے لگی اوبہ خو راکہ"( پھوپھی،  ذرا پانی تو دے دو)  میں صرف پانی مانگنا مقصود ہے لہذا  یہ ظہار نہیں ہے چنانچہ اس سے دونوں میاں بیوی کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، تاہم فقہائے كرام  نےبیوی کوان الفاظ سے پکارنے  کو مکروہ قرار دیا ہے، اس لیے حتی الوسع ایسے الفاظ سے احتراز کرنا چاہیئے۔

 

وشرعاً: ‌تشبيه ‌المسلم ‌زوجته أو ما يعبر به عنها أو جزءا شائعاً منها بمحرمة عليه تأبيداً.( اللباب في شرح الكتاب، كتاب الظهار، ج:3، ص:67)

ولو قال: أنت علي كأمي أو مثل أمي يرجع إلى نيته فإن نوى به الظهار كان مظاهرا، وإن نوى به الكرامة كان كرامة، وإن نوى به الطلاق كان طلاقا، وإن نوى به اليمين كان إيلاء؛ لأن اللفظ يحتمل كل ذلك إذ هو تشبيه المرأة بالأم فيحتمل التشبيه في الكرامة والمنزلة أي أنت علي في الكرامة والمنزلة كأمي ويحتمل التشبيه في الحرمة ثم يحتمل ذلك حرمة الظهار ويحتمل حرمة الطلاق وحرمة اليمين فأي ذلك نوى فقد نوى ما يحتمله لفظه فيكون على ما نوى.وإن لم يكن له نية لا يكون ظهارا عند أبي حنيفة وهو قول أبي يوسف۔ (بدائع الصنائع، كتاب الظهار، فصل في شرائط الظهار، ج:5، ص:8)

لو قال لها: أنت أمي لا يكون مظاهرا وينبغي أن يكون مكروها ومثله أن يقول: يا ابنتي ويا أختي ونحوه. (الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب التاسع في الظهار، ج:1، ص:507)


فتویٰ نمبر : 6874/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں