بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/09/2026

دارالافتاء

 

میزان بینک میں سرمایہ کاری کرنا


سوال

 کیا میں اپنے پیسے میزان بینک میں انویسٹ کرسکتا ہو ں؟

جواب

موجودہ حالات کے تناظر میں سودی کاروبار کی حوصلہ شکنی اور اسلامی معیشت کو ترویج دینے کی خاطر اسلامی بینک کام کر رہے ہیں اگر چہ ہر ایک اسلامی بینک  کے نام سے کھلنے والے ادارے پر اعتمادممکن نہیں ،لیکن جس بینک کے قواعد وضوابط  واقعتا شرعی ہو ں اورجید علماء کرام کی نگرانی میں ان پر عمل کرایا جاتا ہو تو شرعا ان کے ساتھ سرمایہ کاری کی گنجائش ہے۔

 صورت مسؤلہ میں ذکرکردہ (میزان بینک ) کے معاملات ہماری معلومات کے مطابق تا حال شرعی اصول کے موافق ہیں اور مستند و تجربہ کار علماء کرام ان کی نگرانی کررہے ہیں اس لیے ان کے ساتھ سرمایہ کاری کرنا جائز ہے ۔

 

قال لله تعالی:"واحل اللہ البیع وحرم الربوٰا"(البقرۃ:    275)

 الامور بمقاصدھا یعنی ان الحکم الذی یترتب علی امر یکون علی مقتضی ما ھو المقصود من ذالک الامر۔ (شرح المجلۃ لخالد الاتاسی ،المادۃ :2 ،ج1 ص13)


فتویٰ نمبر : 3492/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں