بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے اپنے پروڈکٹ پر کمنٹ اور لائک حاصل کرنےکا حکم
سوال
جو لوگ آن لائن کاروبار کرتے ہیں وہ کسٹمرز کی فیڈبیک کو لوگوں کے ساتھ سوشل میڈیا کی ذریعہ شیئر کرتے ہیں چاہے وہ کمنٹ ہو یا لائک ہو تاکہ ذیادہ تر لوگ اعتماد کرکے ہمارے سے معاملات کرے اس میں کچھ سیلز مین اعتمادحاصل کرنے کے لئے فیک طریقے سے اپنے پروڈکٹ پر لائک اور کمنٹ کرتے ہیں کیا ان کایہ طریقہ اختیارکرنا جائز یا نہیں؟
جواب
واضح رہےکہ جھوٹ اور دھوکہ شرعاً جائز نہیں تاہم جو مال فی نفسہ حرام نہ ہوتو جھوٹ کی وجہ سے وہ حرام نہیں ہوتا ۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص اپنے پروڈکٹ پرلوگوں کااعتماد حاصل کرنے کے لئےفیک طریقےسے کمنٹ یا لائک حاصل کرےلیکن اس کا پروڈکٹ معیاری ہواوراس لائک او رکمنٹ کے مستحق ہو تواگرچہ اس کا یہ طریقہ درست نہیں لیکن اس کی وجہ سے اس کا نفع حرام نہیں ہوجاتا۔البتہ اگر پروڈکٹ معیاری نہ ہو ااور وہ کمنٹ یا لائک کے ذریعے لوگوں کو معیاری معلوم ہواور وہ خرید لیں تو یہ شرعاً جائز نہیں ۔
ابن عمر، قال: نهى النبى، عليه السلام، عن النجش.قال ابن الأنبارى: النجش: أن يزيد الرجل فى ثمن السلعة، وهو لا يريد شراءها، ولكن ليسمعه غيره فيزيد بزيادته. وذكر مثله صاحب العين، وقال أبو عبيد: النجش: استثارة الشىء، والنجاشى والناجش: الذى ينجش الشىء نجشا فيستخرجه. وقال بعضهم: النجش: أن ينفر الناس عن الشىء إلى غيره قال وأصل: النجش: تنفير الوحش من مكان إلى مكان. وذكره ابن الأنبارى وذكر عن ابن عباس أنه قال: نجاشوا سوق الطعام من هذا أخذوا. وذكر أيضا عن الأصمعى أن النجش: مدح الشىء وإطراؤه.(شرح صحيح البخارى لابن بطال، ج:6، ص:269)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں