بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 15/08/2026 |
دارالافتاء
قاتل كو ديت كے بغير معاف كرنا
سوال
میری ایک بیٹی جس کی عمر سولہ سال تھی ، تقریباً گیارہ سال پہلے کچھ لوگوں نے بے دردی سے قتل کی ۔ ا س کے بعد ہم نے قاتلوں کے خلاف ایف آئی آر درج کیا ، گیار ہ سال ہم نے عدالت سے انصاف لینے کی کوشش کی لیکن انصاف نہیں ملا، بلکہ عدالت نے ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ کردیا، کیونکہ وہ مال والے لوگ ہیں ، چنانچہ اس فیصلہ سے ہمیں بہت تکلیف پہنچی،اب یہ لوگ دیت دے کر صلح کرناچاہتے ہیں لیکن ہمارا دل نہیں مان رہا ، ہم نہیں چاہتے ، اب پوچھنا یہ کہ مجھے صلح کرناچاہئے یا نہیں ،اگر کروں تو دیت کے بغیر بھی معاف کرسکتی ہوں یا دیت لے کر ، نیز یہ بھی بتادیں کہ میں ان سے دیت لے کر صلح کردوں یا بغیر دیت کے معاف کردوں تو کیا یہ لوگ بالکل معاف ہوجائیں گے یعنی اس قتل کے گناہ انہیں ملے گایا نہیں ؟
جواب
کسی مسلمان کا ناحق قتل کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے، اس پر قرآن وحدیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، مسلمان کو ناحق قتل کرنے میں ایک طرف اللہ تعالیٰ کے حکم کی پامالی اور اس کی نافرمانی ہے جو حقوق اللہ ہے، تودوسری طرف اس میں مقتول کے لواحقین کو تکلیف پہنچانا بھی ہے جو ”حقوق العباد“ سے تعلق رکھتا ہے، شریعت نے اس پر سزا مقرر کی ہے، قتلِ عمد کی صورت میں مقتول کے اولیاء کو قصاص کاحق ہوتا ہے ،جو حکومت کے ذریعے قاتل سے لیا جاتا ہے ،نیزاولیاء کو بالکل معاف کردینے کا بھی حق ہوتاہے، اگر مقتول کے اولیاء قاتل کو معاف کردیں تو اس پر ان کو آخرت میں اجر ملے گا،ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت کریمہ (فمن تصدق به فهو كفارة له) تلاوت فرمائی ،پھر ارشاد فرمایا :وہ آدمی جس کادانت توڑدیاجائے یا اس کے بدن کے کسی حصے کو زخمی کردیا جائے پھر وہ معاف کردے ،تو اس سے اس کے بدن کےزخمی حصہ کے معاف کردینے کے بقدر گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ،اگر آدھی دیت کے بقد ر ہو تو آدھے گناہ ،اور اگر دیت کے ایک چوتھائی کے بقدر ہو تو اس کے چوتھائی گناہ ،اور اگر دیت کے ایک تہائی ہو تو اس کے ایک تہائی گناہ ،اور اگر پوری دیت ہی معاف کردے تو اس کے سب گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ۔
صورتِ مسئولہ میں مقتولہ کے اولیاء اگر بغیر دیت معاف کرنا چاہیں تو اس کی اجازت ہے اور اس پر ان کو اجروثواب ملے گا۔نیز مقتولہ کے اولیاءقاتل بطور صلح دیت بھی وصول کرسکتے ہیں۔
نیزقاتل اگر مقتولہ کے اولیاء کا حق ادا کرکے ان سے معافی مانگ لے، اور صدق دل سے اپنے اس گناہ پر ندامت کے ساتھ اللہ رب العزت سے معافی مانگے تواللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے امید ہے کہ اس کا گناہ معاف ہوجائے گا اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مقتولہ کو راضی کردیں گے۔
قال اللہ تعالی:وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ." ﴿البقرة: 179﴾
وقال:{وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا أَنْ يَصَّدَّقُوا فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِنَ اللَّهِ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا (92) وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا(93)} [النساء: 92، 93]
حدثني أبو هريرة رضي الله عنه، قال: لما فتح الله على رسوله صلى الله عليه وسلم مكة قام في الناس فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال:...ومن قتل له قتيل فهو بخير النظرين: إما يودى، وإما يقاد.(صحيح البخاری،ج:2،ص: 552،رقم الحديث: 6880)
ويجعل قول رسول الله (صلى الله عليه وسلم) فيهما فهو بالخيار بين أن يعفو، أو يقتص، أو يأخذ الدية على الرضا من الجانى بغرم الدية حتى تتفق معانى الآثار.( شرح صحيح البخارى لابن بطال، ج:8، ص:508)
عن الشعبي، قال: قال عبادة بن الصامت عند معاوية: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من أصيب بجسده بقدر نصف ديته فعفا كفر عنه نصف سيئاته وإن كان ثلثا أو ربعا فعلى قدر ذلك» ، فقال رجل: آلله لسمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال عبادة: والله لسمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم.( مسند أبي داود الطيالسي، ج:1،ص:480، رقم الحديث:588)
"فَمَنْ تَصَدَّقَ أي من المستحقين للقصاص بِهِ أي بالقصاص أي فمن عفا عنه، والتعبير عن ذلك بالتصدق للمبالغة في الترغيب فَهُوَ أي التصدق المذكور كَفَّارَةٌ لَهُ للمتصدق كما أخرجه ابن أبي شيبة عن الشعبي وعليه أكثر المفسرين، وأخرج الديلمي عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما أن رسول الله صلّى الله عليه وسلّم قرأ الآية فقال: «هو الرجل يكسر سنه أو يجرح من جسده فيعفو فيحط عنه من خطاياه بقدر ما عفا عنه من جسده، إن كان نصف الدية فنصف خطاياه، وإن كان ربع الدية فربع خطاياه، وإن كان ثلث الدية فثلث خطاياه، وإن كان الدية كلها فخطاياه كلها» .وأخرج سعيد بن منصور وغيره عن عدي بن ثابت «أن رجلا هتم فم رجل على عهدمعاوية رضي الله تعالى عنه فأعطي دية فأبى إلا أن يقتص فأعطي ديتين فأبى فأعطي ثلاثا فحدث رجل من أصحاب النبي صلّى الله عليه وسلّم عن رسول الله عليه الصلاة والسلام قال: من تصدق بدم فما دونه فهو كفارة له من يوم ولد إلى يوم يموت.(تفسيرروح المعاني،سورة المائدة،آيت :45، ج:3، ص:173)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں