بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

پانچ تو لہ سونا اورایک تو لہ چاندی پر زکوۃ کا حکم


سوال

اگر کسی کے پاس پانچ  تولہ سونا اور ایک تولہ چاندی ہو تو اس پر زکوۃ واجب ہو گی  یا نہیں اور کیا  زکوۃ کی رقم یکمشت ادا کرنالازم ہےیا تھوڑی تھوڑی  کرکے بھی زکوۃ ادا کی جاسکتی ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ زکوۃ کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ نصاب کامل ہو یعنی ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کی برابر نقد رقم  یا سامان تجارت ہو ۔ اگر ان میں سے کوئی ایک نصاب  بھی پورا  نہ ہو  بلکہ کچھ سونا ہو، کچھ چاندی اور کچھ نقد رقم ہو تو اس صورت میں ان کو اجزاء کے اعتبار سے ملا کر دیکھا جائے گا اگر ملانے سے نصاب کامل ہو جائے تو زکوۃ واجب ہوگی ورنہ نہیں۔نیز سال مکمل ہونے پر زکوۃ کا حساب کرنے کے بعد یکمشت ادا کرنا ضروری نہیں ،لہذا سال بھر میں تھوڑی تھوڑی کرکے بھی زکوۃ ادا کی جاسکتی ہے،البتہ زکوۃ دیتے وقت نیت کرنا ضروری ہو گا ۔

 صورت مسئولہ کی مطابق اگر کسی شخص کے پاس صرف   پانچ   تولہ سونا اور ایک تو لہ چاندی ہواور  اس کے علاوہ کوئی نقدی یا  سامان تجارت نہ ہو،تو ایسے شخص پر زکوۃ واجب نہیں۔نیز زکوۃ کی رقم یکمشت ادا کرنا ضروری نہیں  ،سال بھر میں تھوڑی تھوڑی کر کے بھی زکوۃ ادا کی جاسکتی ہے۔

 

ومنها: كون المال نصابا فلا تجب في أقل منه.(الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة، الباب الاول: في تفسيرها، وصفتها، وشرائطها، ج:1، ص: 133)

‌ثم ‌اختلفوا ‌في ‌كيفية ‌الضم، ‌فقال ‌أبو ‌حنيفة  ‌رحمه ‌الله ‌تعالى: ‌يضم ‌أحدهما ‌إلى ‌الآخر ‌باعتبار ‌القيمة، وقال أبو يوسف ومحمد باعتبار الأجزاء وهو إحدى الروايتين عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى. (كتاب المبسوط، كتاب الزكاة، باب زكاة المال، ج: 2، ص:193)

‌فأما ‌إذا ‌كان ‌له ‌الصنفان جميعا فإن لم يكن كل واحد منهما نصابا بأن كان له عشرة مثاقيل ومائة درهم فإنه يضم أحدهما إلى الآخر في حق تكميل النصاب عندنا.(بدائع الصنائع،ج:2،ص:19)


فتویٰ نمبر : 9937/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں