بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کرایہ پر لی گئی دکان کا کچھ حصہ کسی اور کو کرایہ پر دینا


سوال

مالک دکان نے دکان  حکیم کو کرایہ پر دی ہے اب حکیم دکان کا سامنے کا  حصہ سبزی فروش کو کرایہ پر دینا چاہتا ہے،دکان کا کل کرایہ سولہ ہزار ہے اور حکیم سبزی فروش سے نوہزار لے گا تو کیا حکیم کے لیے دکان کا سامنے کا  حصہ کرایہ پر دینا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ اجارہ پر حاصل کی گئی دکان میں کسی کو کچھ حصہ کر ایہ پر دے کر اس سے کرایہ وصول کرنا جائز ہے ، بشرطیکہ وہ کرایہ پوری دکان کے کرایہ سے کچھ کم  ہو یا اگر زیادہ ہوتو دکان میں کرایہ دار نے کسی ایسی چیز کا اضافہ کیا ہو جس کے عوض وہ اضافی کرایہ وصول کرتا ہو اور دوسری شرط یہ ہے کہ کسی ایسے شخص کو کرایہ پر نہ دی جائے  جس کی صنعت و حرفت دکان کی تعمیر کومتاثر کرے۔

صورت مسئولہ کے مطابق حکیم کا اپنے دکان کےاندر سامنے والاحصہ کسی سبزی فروش کونو ہزارماہانہ کے عوض کرایہ پر دینا جائز ہے۔

 

يـجـوز استئجار دار أو حانوت بدون بيان من يسكنها، ولا بيان مايعمل فيها ، فللمستأجر أن يسكنها بنفسه أو يسكنها غيره بإجارة ، أو إعارة ، ونحوهما. (شرح المحلة لسليم رستم باز ، المادة : 522، كتاب الإجارة ، الباب السادس في أنواع المأجور، ص: 284)

وللمستأجر ‌في ‌إجارة ‌الدار وغيرها من العقار أن ينتفع بها كيف شاء بالسكنى، ووضع المتاع، وأن يسكن بنفسه، وبغيره، وأن يسكن غيره بالإجارة، والإعارة.إلا أنه ليس له أن يجعل فيها حدادا، ولا قصارا، ونحو ذلك مما يوهن البناء لما بينا فيما تقدم، ولو أجرها المستأجر بأكثر من الأجرة الأولى فإن كانت الثانية من خلاف جنس الأولى طابت له الزيادة، وإن كانت من جنس الأولى لا تطيب له حتى يزيد في الدار زيادة من بناء أو حفر أو تطيين أو تجصيص.(بدائع الصنائع،ج:4،ص:206)


فتویٰ نمبر : 3489/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں