بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا


سوال

میرا  والد صاحب ابھی زندہ ہے اور اپنی جائیداد (تين بيٹوں اور تين بيٹيوں)كے درميان تقسیم کرنا چاہتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جائیداد میں سے بعض شہری علاقہ (لوئر چترال )میں ہے اور بعض گاؤں(اپر چترال) میں جس کی وجہ سے ان کی قیمت مختلف ہے ،والد صاحب چاہتا ہے  كہ گاؤں والی زمین ایک بیٹی کو دوں اور شہر والی زمین باقی اولاد کو دوں،گاؤں والی زمین کی قیمت بنسبت شہر والی زمین کے کم ہےتو کیا والد صاحب  اپنی مرضی سے جس کو جو دینا چاہے دے سکتا ہےیا نہیں؟ کیا اس سے وہ گناہ گار ہوگا یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے ہر شخص کواپنے  ذاتی مال و جائیداد میں ہر قسم کے جائز تصرف کا مکمل حق حاصل ہے ۔اولاد  کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ حالت حیات میں والد سےاس کے مال و جائیداد میں حصہ کا مطالبہ کرے ہاں اگرکوئی شخص حالت حیات میں اپنی رضامندی سے مملوکہ جائیداد اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو انصاف سے کام لے کر سب کو برابر حصہ دے گا۔تاہم اگر اپنی بعض اولاد کو کسی معقول وجہ  جیسے دین داری ،خدمت گزاری یا معذوری کی بنیاد پر دوسروں کی بنسبت کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کی گنجائش ہے۔نیز لڑکوں کو لڑکیوں سے دگنا دینے کی بھی گنجائش ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق والد کے لیے بہتر طریقہ یہ ہے جائیداد کو بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان  برابرتقسیم کرے تاہم اگر بیٹوں کو بیٹیوں سے دگنا دے تو اس کی بھی گنجائش ہے،زمینوں کی قیمت مختلف ہونے کی صورت میں  والد زمینوں کی قیمت لگاکر انصاف سےتقسیم کرے۔

 

عن النعمان بن بشير أنه قال: « إن أباه أتى به رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ‌أكل ‌ولدك ‌نحلته مثل هذا؟ فقال: لا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فارجعه .»(صحيح مسلم، باب كراهة تفضيل بعض الأولاد في الهبة،ص:36،ج:2)

يكره تفضيل بعض الاولاد علی البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له فی الدين، وإن وهب ماله كله لواحد جاز وهو آثم .(البحرالرائق،كتاب الهبة،ج:7،ص:490)

ولو وهب رجل شيئا لاولاده في الصحة، أراد تفضيل البعض علي البعض في ذلك لا رواية لهذا في الاصل عن أصحابنا،روی عن أبی حنيفة۔ؒ أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كان سواء يكره وروی المعلى عن أبي يوسف ۔ؒأنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار سوی بينهم يعطی الابنة مثل ما يعطی للابن وعليه الفتوی هكذا في فتاوی قاضيخان وهو المختار،كذا في الظهيرية. (الفتاوي الهندية، الباب السادس في الهبه للصغير،ج:4،ص:416)


فتویٰ نمبر : 5735/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں