بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

زانی کا مزنیہ کی بیٹی سے نکاح کرنے کا حکم


سوال

میں ایک بیوہ خاتون ہوں میں نے اپنی بیٹی کا رشتہ جس لڑکے سے طے کیا تھا میں نے اس لڑکے سے دانستہ طور پر زنا کا ارتکاب کیا  تھا میں اب بہت نادم ہوں اور سچے دل سے اللہ کے حضور میں پکی  توبہ کرچکی ہوں لیکن جب مجھے پتہ چلا کہ اس حرکت کی وجہ سے میری بیٹی کا اس لڑکے سے کبھی نکاح نہیں ہوسکتا تو میں جیتے جی مرگئی اور جب میں نے اپنی بیٹی کو وجہ بتائے بغیر اس لڑکے کے ساتھ شادی کرنے سے منع کیا تو اسکو اتنا گہرا صدمہ پہنچا کہ کھانا پینا چھوڑ دیا اور خود کشی کرنے کی قسم کھائی ۔میری بیٹی کا اس دنیا  میں میرے سوا کوئی نہیں ہے اور میرا بھی سب کچھ میری بیٹی ہی ہے اگر میری بیٹی کو کچھ ہوا تو میں بھی نہیں بچوں گی سب  کومیری بیٹی کے رشتہ کا علم ہے میری بیٹی خود کو ماردے گی اور میں یہ صدمہ برداشت نہیں کرسکوں گی۔ آپ کی بہت مہربانی ہو گی میری بیٹی کو مرنے سے  بچائیں میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں آپ کا مجھ پر احسان ہوگا کوئی گنجائش نکالیں تاکہ میری بیٹی کی شادی اس لڑکے سے ہوجائے۔

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی مرد کسی عورت سے زنا کرے ، تو فقہائے احنافؒ کے نزدیک اس سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگی ، چنانچہ جس عورت سے زنا کیا گیا وہ زانی کےاصول (باپ، دادا) اور اس کے فروع(بیٹے، پوتے) پر حرام ہو جاتی ہے ، اسی طرح اس عورت کے اصول(ماں، نانی وغیرہ)اور اس کی اولاد خواہ رضاعی ہوں یا نسبی ہوں سب زانی مرد پر حرام ہوجاتے ہیں۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق سائلہ نے جس لڑکے کے ساتھ زنا کا ارتکاب کیا ہے تو اس کا سائلہ کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔

 

أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب النکاح،فصل فی المحرمات،ج:4،ص:107)


فتویٰ نمبر : 6873/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں