بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

میت کے گھر کھانا کھانے کا حکم


سوال

میت کے گھر کھانا کھانے کا کیا حکم ہےجب کہ اس کھانے کا انتظام میت کے رشتہ داروں کی طرف سے ہومیت کے مال سے نہ ہو ؟ ایک آدمی نے بتایا کہ میت کے گھر کھانا خنزیر کے گوشت کھانے کی طرح ہے البتہ اگر میت کے گھر والے اس کے لئے کسی دوسری جگہ کھانے کا انتظام کرلے تو کوئی مضائقہ نہیں اس بات کی کیا حقیقت ہے؟اور اگر فوتگی کے بعد ورثا ایصال ثواب کی نیت سے  میت کے مال سے کھانے کا انتظام کر لیں تو اس کا کیا حکم ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ  خوشی کے موقع پردعوت کا کھانامشروع ہے غم کے موقع پرنہیں،اس لئے فقہاءنے تعزیت کے موقع پر کھانے کی دعوت کو مکروہ اور بدعت قرار دیا ہے، چنانچہ فوتگی کے موقع پر میت کے گھر والوں کی طرف سے کھانے کا انتظام مکروہ ہے البتہ اگر تعزیت کے لئے لوگ دور سے آئے ہوں اور میت کے رشتہ دار یا پڑوسی ان کے لئے کھانے کا انتظام کر لیں تو اس کی گنجائش ہے۔

صورت مسؤلہ میں جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ میت کے گھرکھانا  کھانا خنزیر کے  گوشت کی طرح ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ،البتہ کسی کے لئےاس کی اجازت نہیں کہ وہ میت کے گھر پر بوجھ بنے، کیونکہ شریعت کی تعلیم یہ ہے کہ میت کے اہل خانہ کے کھانے پینے کا بندوبست بھی پڑوسی اور دیگر رشتہ دار کریں۔ تاہم جب اہل خانہ کے علاوہ دوسرے متعلقین کی طرف سے کھانے کا بندوبست ہوجائےتو دور سے آنے والوں کے لئے اس میں شرکت میں کوئی قباحت نہیں۔

 اس کے علاوہ اگر میت کے  ورثا ایصال ثواب کی نیت سے کھانے کا انتظام کرلیں اور ان میں کوئی نابالغ بھی  نہ ہوتو فی نفسہ اس کی گنجائش ہے لیکن عام طور پر چونکہ یہ  رسم و رواج اور ریا کاری کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اس لئے جہاں اس طرح کا رواج ہووہاں اس سے احتراز کرنا چاہئے۔اور جہاں یتیم بچوں کے مال سے کھانا تیار کیا جائے ہےتو یہ ناجائز ہےکیونکہ یتیم کامال کھانا حرام ہے۔

 

قال الله تعالى: إِنَّ ٱلَّذِينَ يَأۡكُلُونَ أَمۡوَٰلَ ٱلۡيَتَٰمَىٰ ظُلۡمًا إِنَّمَا يَأۡكُلُونَ فِي بُطُونِهِمۡ نَارٗاۖ وَسَيَصۡلَوۡنَ سَعِيرٗا.)النساء:10( 

ويكره اتّخاذالضّيافة في يوم المصيبة،وإن كان اتّخذ طعاماًللفقراء كان حسناً إن كانت الورثة بالغين، فإن كان في الورثة صغير لم يتّخذوا ذٰلك من التّركة.(الفتاوىٰ التاتارخانية،كتاب الكراهية،فصل في الهدايا والضيافات، ج:18،ص:176)

ولا يباح اتّخاذ الضّيافة ثلاثة أيّام في أيّام المصيبة، وإذاتّخذ لا بأس بالأكل منه. (الفتاوٰى الهندية، كتاب الكراهية،ج:5،ص:398)

ويستحبّ لجيران أهل الميّت والأقرباء الأباعد تهيىٔةطعام لهم يشبعهم يومهم و ليلتهم.(ردّالمحتار على الدّرالمختار،كتاب الصلاة،باب صلاةالجنازة،مطلب في الثواب على المعصية،ج:3،ص:148)

 ويكره اتّخاذ الضّيافةمن الطّعام من أهل الميّت؛لأنّه شرع في السّرور لا في الشّرور،وهي بدعة مستقبحة... وقال: وهذه الأفعال كلّها للسّمعةوالرياء، فيحترز عنها؛ لأنّهم لا يريدون بها وجه الله تعالٰى.(ردّالمحتار علٰى الدّرالمختار،كتاب الصّلاة،باب صلاة الجنازة،مطلب في كراهية الضّيافة من أهل الميّت،ج:3،ص:148) 

من صام أو صلّٰى أوتصدّق، وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز، ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنّة والجماعة. (ردّالمحتار على الدّرالمختار،كتاب الصّلاة،فصل في صلاةالجنازة،مطلب في القراءة للميّت،ج:3،ص:151)


فتویٰ نمبر : 5731/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں