بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نابالغ بچوں کےحصہ وراثت کی حفاظت کا ذمہ دار


سوال

نابالغ بچوں کی وراثت کا حصہ کس کے سپرد کیا جائے؟ نابالغ بچوں کے ، یا ان کی والدہ کے، یا ان کے دادا کے، یا چچاؤں کے۔

جواب

 نابالغ لڑکے کو اپنے باپ کے میراث میں جو مال ملا ہو اس کی حفاظت کی ذمہ داری با پ کے مقرر کردہ وصی کی ہو گی۔  وصی سے مراد وہ شخص ہے جس کو کوئی اپنی موت کے بعد اپنے مال کی نگرانی یا نابالغ اولاد سے متعلق ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے نگران مقرر کرے۔ اگرباپ  نے کسی کووصی  مقرر نہ کیا  ہو تو پھر دادا  کو اس کے مال کی حفاظت کرنی ہو  گی۔ اگر دادا نہ ہو تو اس کے مقرر کردہ وصی کی ذمہ داری ہو گی ۔ اور اگر دادا نے بھی کسی کو  مقرر نہ کیا ہو تو  پھر عدالت  جس کو مقرر کرے وہ حفاظت کرے گا۔

 صورت مسئولہ کے مطابق اگر باپ نے  وصی مقرر نہ کیا ہو تو سوال میں مذکور افراد میں سے دادا کو اس کا مال حوالہ کیا جائے گا چنانچہ دادا اس کی حفاظت کرے  گا جب تک بچے بالغ نہ ہو جائیں ۔

 

‌وفي ‌الخامسة ‌نظر ‌لما ‌تقدم قبيل شهادة الأوصياء أن الولاية في مال الصغير لأبيه، ثم لوصي الأب، ثم للجد، ثم لوصيه، ثم للقاضي، ثم لوصيه فالجد يقوم مقام الأب عند عدم الأب، ووصيه فلم يخالف الجد فيها الأب تأمل.( ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الفرائض، ج:6 ، ص:771)

وأما ترتيب الولاية فأولى الأولياء الأب ثم وصيه ثم وصي وصيه ثم الجد ثم وصيه ثم وصي وصيه ثم القاضي ثم ‌من ‌نصبه ‌القاضي وهو وصي القاضي وإنما تثبت الولاية على هذا الترتيب لأن الولاية على الصغار باعتبار النظر لهم لعجزهم عن التصرف بأنفسهم، والنظر على هذا الترتيب؛ لأن ذلك مبني على الشفقة وشفقة الأب فوق شفقة الكل. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب البيوع ، فصل في ترتيب الولاية، ج:5 ، ص:155)

وفي الخانية والخلاصة وغيرهما: أنت وصيي أو ‌أنت ‌وصيي ‌في ‌مالي ‌أو ‌سلمت إليك الأولاد بعد موتي أو تعهد أولادي بعد موتي أوقم بلوازمهم بعد موتي أو ما جرى مجرى هذه الألفاظ يكون وصيا. (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الوصايا، ‌‌باب الوصي، ج:10 ، ص:409)


فتویٰ نمبر : 3553/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں