بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

بیٹے کا والد کی جائیداد پر قبضہ کرنا


سوال

اگر کوئی شخص اپنے والد کی زندگی میں والد کی رضامندی کے بغیر اس کی زمین  پر قبضہ کرے   تو بعد میں یہ والد کا ترکہ شمار ہو گا یا نہیں؟

جواب

 واضح رہے کہ زندگی میں باپ اپنی جائیداد کا خود مالک ہوتا ہے، اس میں کسی اولاد کا کوئی حق نہیں ہوتا۔

لہذا صورت مسؤلہ  کے مطابق اگرباپ کی زندگی میں  کسی وارث نے   والد کی  زمین پر اس کی رضامندی کے بغیر قبضہ کیا ہو تو یہ اس کی ملکیت شمار نہیں ہو گی بلکہ والد کی  وفات کے بعد   باقی ترکہ کے ساتھ   اِسے بھی تمام ورثا میں تقسیم کیا جائے گا۔

 

 قال الله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم} [النساء: ٢٩]

بالباطل أي: من غير الوجه الذي أباحه الله تعالى۔( أبو إسحاق أحمد بن إبراهيم الثعلبي تفسير الثعلبي،سورة البقرة،ج:3،ص:83)

عن يحيى بن سعيد , عن أنس بن مالك , أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفسه»(سنن الدار قطني،ج:3،ص:424،رقم الحديث:2885)


فتویٰ نمبر : 3552/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں