بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

ٹیکسی ڈرائیورکا شراب کی کمپنی کو مزدور لے جانا


سوال

شراب کی کمپنی میں ملازمت کرنے والے مزدوروں کو ٹیکسی میں کرایہ پر لے جاناجائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ٹیکسی چلانے والے کا کسی بھی سواری کو کرایہ پر لے جانااجارہ ہے جو کہ شرعا جائز ہے خواہ وہ سواری کہیں بھی جارہی ہو،اگر وہ جاکر  کوئی حرام کام کرتا ہو  تو یہ اس کا ذاتی فعل ہے ،لے جانے والا اس کا جواب دہ نہیں،کیونکہ مباشر کی موجودگی میں مسبب کی طرف نسبت نہیں ہوتی۔

لہذاصورت مسئولہ میں  ٹیکسی ڈرائیور کا شراب کی کمپنی کو مزدور لے جاکران سےکرایہ لینےمیں کوئی حرج نہیں ،اور حاصل شدہ آمدنی حلال ہے، شراب کی کمپنی میں مزدوری کرنا ان کا ذاتی فعل ہے،اس سےلے جانے والے کی اجرت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

وإذا ‌استأجر ‌الذمي من المسلم دارا يسكنها فلا بأس بذلك، وإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير ولم يلحق المسلم في ذلك بأس لأن المسلم لا يؤاجرها لذلك إنما آجرها للسكنى. كذا في المحيط.(الفتاوى الهنديۃ،كتاب الإجارة،الباب السادس عشر في مسائل الشيوع في الإجارة ،ج:4، ص:486،دارالفكر)

وكذا في كل موضع تعلق المعصية بفعل فاعل مختار.(خلاصة الفتاوى،كتاب الإجارة،ج:3،ص:149،مكتبةرشيدية)


فتویٰ نمبر : 3495/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں