بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

گھر بنانے کی نیت سے خریدے ہوئے پلاٹ کو بیچنے کی صورت میں زکوۃ


سوال

آج سے سات سے سال قبل2017 میں ہم چار بھائیوں نے مل کر گھر بنانے کی غرض سے ایک کنال پلاٹ خریدا ،2021 تک یہی ارادہ تھا ،بعد میں یہ فیصلہ کیا کہ ہم اپنے لیے تیار مکان خرید لیں گےاور اس پلاٹ کو فروخت کریں گے لیکن آج(دسمبر2023) تک یہ پلاٹ فروخت نہیں ہوا ،پچھلے دو سالوں سے ارادہ فروخت کرنے کا ہے توکیا ان دو سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی ہم پر ہوگی یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ پلاٹ یا دوسری جائیداد میں زکوۃ کے وجوب کے لیے ابتداءتجارت کی نیت کا ہونا ضروری ہے،اگر خرید تے وقت تجارت کی نیت نہ ہو  تو اس میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی اگر چہ بعد میں نیت تبدیل ہوجائے۔

صورت مسئولہ میں چونکہ پلاٹ  گھر بنانے کی غرض سےخریدا گیاتھا اس لیے اس پلاٹ میں زکوۃ واجب نہیں اگر چہ بعد میں  بیچنے  کا ارداہ  کیا ہو۔

 

حدثنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر قال: ‌ليس ‌في ‌العروض زكاة إلا ما كان للتجارة.( السنن الكبير،ج:8،ص:231،رقم الحديث:7679،مركز هجر للبحوث والدراسات العربية والإسلامية،القاهرة)

إذا ‌كانت ‌النية ‌بعد ‌الملك فلا بد من اقتران عمل التجارة بنيته؛ لأن مجرد النية لا يعمل فلا يصير حتى يبيعه بالإجماع.( البناية شرح الهداية،ج:3،ص:384)

ومن ‌اشترى ‌جارية للتجارة ونواها للخدمة بطلت عنها الزكاة لاتصال النية بالعمل وهو ترك التجارة وإن نواها للتجارة بعد ذلك لم تكن للتجارة حتى يبيعها فيكون في ثمنها زكاة لأن النية لم تتصل بالعمل إذ هو لم يتجر فلم تعتبر.( فتح القدير على الهداية،ج:2،ص:168)


فتویٰ نمبر : 9930/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں