بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

ذی رحم محرم کو ہبہ کےبعد رجوع


سوال

زید  اپنے والد(بکر) سے پہلے وفات پا گیا۔زیدوراثت کا حق دار نہ ہونے کے باوجود (بکر )کے  دوسرے بیٹوں (اسلم اور اکرم) نے  اپنے اس متوفی بھائی(زید) کے بیٹوں کو اپنےوالد(بکر) کے  میراث میں سے حصہ دے دیا اور  قبضہ بھی دیا اب قبضہ کے  کئی سال بعد  اکرم یا اسلم وہ حصہ واپس لینا چاہے تو واپس لے  سکتا ہے یا  نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کوئی شخص  اپنے ذی رحم محرم کو کوئی چیز ہبہ کرے اور وہ اس موہوبہ چیز پر قبضہ کرلے  تو  اس کی  ملکیت اس چیز پر ثابت ہو کر اس میں رجوع کا حق باقی نہیں رہتا  ۔

صورت مسئولہ میں  بکر کی  وفات کے بعد  بکرکے  بیٹوں نے  اپنے متوفی بھائی کے بیٹوں کو اپنے والد کے  میراث میں سےاگر  حصہ دیا ہو  تو اب واپس نہیں لے سکتے،کیونکہ بھتیجے  ذی رحم محرم ہیں ان کو کوئی چیز ہبہ کرنے کے بعد جب قبضہ دے دیا جائے توپھر ان  سے واپس نہیں لے سکتے ۔

 

‌تنعقد ‌الهبة بالإيجاب والقبول وتتم بالقبض.( درر الحكام في شرح مجلة الأحكام،‌‌الفصل الأول في بيان مسائل متعلقة بركن الهبة وقبضها،ج:2،ص:396،المادة:837)

قال: "‌وإن ‌وهب ‌هبة ‌لذي رحم محرم منه فلا رجوع فيها" لقوله عليه الصلاة والسلام: "إذا كانت الهبة لذي رحم محرم منه لم يرجع فيها".(الهداية في شرح بداية المبتدي،باب الرجوع في الهبة،ج:2،ص:226)

إذا وهب شخص شيئا لأصوله وفروعه أو ‌لأخيه ‌أو ‌لأخته أو لأولادهما أو لأخ وأخت أبيه وأمه فليس له الرجوع بعد الهبة.(درر الحكام في شرح مجلة الأحكام،المادة:866،ج:2،ص:462)


فتویٰ نمبر : 3558/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں