بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

انبياء کی ميراث اور فدك کی جاگیر کی تفصیل


سوال

بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن مجید کی واضح ترین آیات کریمہ سے ثابت ہے کہ انبیا ءکرام علیہم السلام کی مالی وراثت تقسیم ہوا کرتی ہے ۔روافض بھی کہتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ الزہراء نے حضرت ابو بکر رضی الله عنہ سے مطالبہ فرمایا تھا جاگیر فدک ان کو بطور وراثت دے دی جائے اور جب حضرت ابو بکر رضی الله عنہ نے فدک کی جاگیر بطور وراثت دینے سے انکار کیا تب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا  شدید ناراض ہو گئی یہاں تک کہ اپنی وفات تک حضرت ابو بکر رضی الله عنہ سے مکمل قطع کلامی رکھی اور حضرت ابو بکر رضی الله عنہ کو نماز جنازہ کی اجازت تک نہیں دی ۔روافض سوره نمل آیت 16 سورہ مريم آیت 5 سے استدلال کرتے ہیں۔

جواب

بخاری ومسلم کی صحیح حدیث میں ہےکہ  رسول اللہﷺ نے فرمایا’’ہماری میراث تقسیم نہیں ہوتی ،بلکہ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ  خدا کی راہ میں صدقہ وخیرات  ہے‘‘اس سے معلوم ہوا کہ تمام  انبیاء کرام کے مال  میں میراث جاری نہیں ہوتی ،اور بظاہر اس کی حکمت یہ ہےکہ  لوگوں کو  یہ معلوم ہوجائے کہ حضرات انبیاء کرام  نے دعوت  حق اور تبلیغ دین میں جو  محنت اور مشقت اٹھائی وہ محض خدا تعالیٰ کے لیے تھی اس  سے دنیا مطلوب نہ تھی یہاں تک کہ اولاد کو بھی اس میں کوئی حصہ نہیں ملتا۔

روافض جس واقعہ سے استدلال کرتے ہیں یہ واقعہ بخاری شریف اور مسلم شریف میں مذکور ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ:"حضور ﷺکی وفات کے بعد حضرت فاطمہ نے حضرت ابوبکر صدیق  سے ان اموال (ترکہ ) سے اپنے  میراث کا مطالبہ فرمایا جو اللہ تعالی نے رسول اللہ ْﷺ کو مدینہ اور فدک میں عنایت فرمائے تھے ،اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق  نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہﷺ کی وہ روایت مبارکہ سنائی ’’ہماری میراث تقسیم نہیں ہوتی، بلکہ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے‘‘البتہ آل محمد اسی مال میں سے اپنی ضرورت پوری کرے گی اور خدا کی قسم جو صدقہ رسول اللہﷺچھوڑ گئے اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کروں گا،جس حال میں وہ حضور ﷺکے عہد میں تھا اب بھی اسی طرح رہے گا اور اس میں وہی طرز عمل اختیا ر کروں گا جو حضور ﷺ کا اپنی زندگی میں تھا ،اس پر حضرت فاطمہ  رضی اللہ عنہا کچھ کبیدہ خاطر ہوئیں اور اس کے بعد وفات تک ان سے گفتگو نہیں فرمائی ۔"

اب اس آخری جملے کی وجہ سے روافض نے یہ مشہور کردیاکہ حضرت فاطمہ  رضی اللہ عنہا ان سے ناراض ہوگئیں اور مرتے دم تک ان سے کلام نہیں کیا، حالانکہ یہ بات صحیح نہیں ،کیونکہ اس حدیث میں "فهجرت"كے الفاظ آئےہیں ،اس کے بارے میں  علامہ نوویؒ  اور حضرت انور شاہ کا شمیری ؒ نے لکھا ہے کہ بات چیت نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حضرت فاطمہؓ نے اس مخصوص معاملے(میراث) میں حضرت صدیق اکبرؓ سے پھر کوئی گفتگو نہیں فرمائی، اور مرتے دم تک دوبارہ یہ مطالبہ نہیں  کیا۔

اسی طرح ان کی یہ بات بھی درست نہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا شدید ناراض ہو گئی یہاں تک کہ اپنی وفات تک حضرت ابو بکر رضی الله عنہ سے مکمل قطع کلامی رکھی اور حضرت ابو بکر رضی الله عنہ کو نمازِ جنازہ کی اجازت تک نہیں دی ۔ کیونکہ امام بیہقی ؒ نے "السنن الکبریٰ"میں صحیح سند کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ "جب حضرت فاطمہ  رضی اللہ عنہا بیمار ہوگئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ ؓ کے پاس تشریف لاکر اندر آنے کی اجازت طلب کی ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا پیغام پہنچایا ،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے  اجازت دی ، آپ ؓ  نے جاکر دوبارہ یہی درخواست کی کہ میں نے جو  کچھ کیا اس میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی مقصودتھی اس میں سے میں نے اپنی ذات کے لیے کچھ بھی نہیں لیا اور پھر آپ ؓ کو راضی کرتےرہے  یہاں تک وہ راضی ہوگئے۔"

معلوم ہواکہ ان کو  جو طبعی ناگواری تھی وہ بھی ختم ہوگئی،اور کئی روایات میں ہے کہ  حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔

جہاں تک   سورت نمل کی آیت  وَوَرِثَ سُلَيۡمَٰنُ دَاوُۥدَ کی بات ہے تو مفسرين فرماتے ہیں کہ یہاں وراثت سے مال کی وراثت مراد نہیں بلکہ "علم وحکمت"مراد ہےورنہ حضرت سلیمان ؑ حضرت داؤد ؑ کے اکیلے بیٹے نہیں تھے بلکہ حضرت داؤدؑ کےاس کے علاوہ بھی بیٹے موجود تھے تو صرف حضرت سلیمانؑ کو وارث کے طور پر ذکر کرنے کا کوئی معنیٰ نہیں۔

اسی طرح سورۃ مریم کی آیت مبارکہ  يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنۡ ءَالِ يَعۡقُوبَۖ میں وراثت سے مرادمنصب  نبوت میں وراثت ہونا ہے کیونکہ حضرت یعقوب ؑ کی اولاد میں کوئی خزانہ وراثت کے طور پر نہیں چل رہا تھا جس کا وارث بنانا مقصود تھا بلکہ نبوت چل رہی تھی ۔

لہذاان آیات کریمہ سے   انبیاءکرام  کی مالی وراثت ثابت نہیں ہوتی۔

 

عن عائشة : «أن فاطمة والعباس عليهما السلام، أتيا أبا بكر يلتمسان ميراثهما من رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهما حينئذ يطلبان أرضيهما من فدك وسهمهما من خيبر، فقال لهما أبو بكر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ‌لا ‌نورث، ما تركنا صدقة، إنما يأكل آل محمد من هذا المال قال أبو بكر: والله لا أدع أمرا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنعه فيه إلا صنعته، قال: فهجرته فاطمة، فلم تكلمه حتى ماتت.».(صحيح البخاري،باب قول النبي صلى الله عليه وسلم لا نورث ما تركنا صدقة،ج:8،ص:149،رقم:6725)

عن عمرو بن الحارث ختن رسول الله، صلى الله عليه وسلم أخو جويرية بنت الحارث قال ‌ما ‌ترك ‌رسول ‌الله، صلى الله عليه وسلم ‌عند ‌موته درهما ولا دينارا ولا عبدا ولا أمة ولا شيئاإلا بغلته البيضاء وسلاحه وأرضا جعلها صدقة.(صحيح البخاري،باب الوصايا،ج:4،ص:2،رقم:2739)

عن عائشة أنها أخبرته « أن فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم أرسلت إلى أبي بكر الصديق تسأله ميراثها من رسول الله صلى الله عليه وسلم مما أفاء الله عليه بالمدينة، وفدك، وما بقي من خمس خيبر، فقال أبو بكر : إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا نورث، ما تركنا صدقة. إنما يأكل آل محمد صلى الله عليه وسلم في هذا المال، وإني والله لا أغير شيئا من صدقة رسول الله صلى الله عليه وسلم عن حالها التي كانت عليها في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولأعملن فيها بما عمل به رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأبى أبو بكر أن يدفع إلى فاطمة شيئا، فوجدت فاطمة على أبي بكر في ذلك، قال: فهجرته ‌فلم ‌تكلمه حتى توفيت، وعاشت بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم ستة أشهر.(صحيح مسلم، ‌‌باب قول النبي صلى الله عليه وسلم: لا نورث ما تركنا فهو صدقة، ج:5،ص:153،رقم:1759)

عن الشعبي قال: لما مرضت فاطمة رضي الله عنها أتاها أبو بكر الصديق رضي الله عنه فاستأذن عليها، فقال علي رضي الله عنه: يا فاطمة، هذا أبو بكر يستأذن عليك، فقالت: ‌أتحب ‌أن ‌آذن ‌له؟ قال: نعم، فأذنت له، فدخل عليها يترضاها وقال: " والله ما تركت الدار والمال والأهل والعشيرة إلا ابتغاء مرضاة الله ومرضاة رسوله ومرضاتكم أهل البيت "، ثم ترضاها حتى رضيت.(السنن الكبرى، للبيهقي،ج:3،ص:491،رقم:12735)

عن جعفر بن محمد عن أبيه قال: ماتت فاطمة بنت النبي صلى الله عليه وسلم فجاء أبو بكر وعمر ليصلوا فقال أبو بكر لعلي بن أبي طالب: تقدم، فقال: ما كنت لأتقدم وأنت خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‌فتقدم ‌أبو ‌بكر ‌فصلى عليها.(كنز العمال،كتاب الفضائل،ج:12،ص:515،الرقم:35677)

ثم الحكمة في سبب عدم ميراث الأنبياء، عليهم الصلاة والسلام، أنه لا يظن بهم أنهم جمعوا المال لورثتهم.(عمدة القاري،باب فرض الخمس،ج:15،ص:20)

فهب لي من لدنك وليا ‌يرثني ‌ويرث من آل يعقوب" وتخصيص للعموم في ذلك، وأن سليمان لم يرث من داود مالا خلفه داود بعده، وإنما ورث منه الحكمة والعلم، وكذلك ورث يحيى من آل يعقوب، هكذا قال أهل العلم بتأويل القرآن ما عدا الروافض، وإلا ما روي عن الحسن أنه قال:" يرثني" مالا" ويرث من آل يعقوب" النبوة والحكمة، وكل قول يخالف قول النبي صلى الله عليه وسلم فهو مدفوع مهجور(تفسير القرطبي،ج:11،ص:78)

وقوله:▬ وورث سليمان داود♂ أي: في الملك والنبوة، وليس المراد وراثة المال؛ إذ لو كان كذلك لم يخص سليمان وحده من بين سائر ‌أولاد ‌داود، فإنه قد كان لداود مائة امرأة. ولكن المراد بذلك وراثة الملك والنبوة؛ فإن الأنبياء لا تورث أموالهم، كما أخبر بذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم [في قوله] : نحن معشر الأنبياء لا نورث، ما تركناه صدقة.(تفسير ابن كثير،ج:6،ص:82)

قوله في هذا الحديث (فلم تكلمه) يعني في هذا الأمر. (شرح النووي على مسلم، ج:12، ص:73)

وأما ‌عدم ‌كلام ‌فاطمة إياه حتى ماتت، فالمراد منه كلامها في أمر فدك، أو أنه لم يتفق له ذلك.(فيض الباري، باب حديث بنى النضير ،ج:5،ص:31)

ومعنى هجرانها انقباضها عن لقائه وعدم الانبساط لا الهجران المحرم من ترك السلام ونحوه. (عمدة القاري، ج:17، ص:258)


فتویٰ نمبر : 3568/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں