بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

کسی کا حق دلوانے کے لیے جھوٹ بولنا


سوال

میرے والد صاحب نے ترکہ میں اپنی بہنوں  کو ان  کا حصہ   نہیں دیا اور ترکہ کی زمین بھائیوں کے ساتھ مل   کر آپس میں تقسیم کرلی ،تو  کیا میں جھوٹ بول کرمثلا:جھوٹے خواب  وغیرہ  سنا کر  پھوپھیوں کا حق دلوا سکتا ہوں ؟

جواب

واضح رہے کہ میراث میں بیٹوں کی طرح بیٹیوں کا  بھی شرعی حق  ہوتا ہےچنانچہ بہنوں کے ترکہ پر بھائیوں کا قبضہ کرنا اوران کو ان کے  حصہ شرعی سے محروم رکھنا نا جائز اور گناہ کبیرہ ہے ،بھائیوں پر لازم ہے کہ بہنوں  کو ان کا حق دےدیں ۔

صورت مسئولہ کے مطابق بھائیوں کا ترکہ پر قبضہ کرنا اور بہنوں کو حصہ شرعی سے محروم رکھنا نا جائز اور گناہ ہے ،بھائیوں پرلازم ہے کہ ترکہ میں بہنوں  کا حق شرعی ادا کردیں  لیکن اگر وہ اس کے لیے تیار نہ ہوں تو  سائل کے لیے جھوٹ بولنا یا جھوٹے خواب بیان کرکے  ان  کا حق دلوانا جائز نہیں  ۔

 

حدثنا يحيى، عن هشام، وابن نمير، حدثنا هشام، حدثني أبي، عن سعيد بن زيد بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ابن نمير: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " ‌من ‌أخذ ‌شبرا ‌من ‌الأرض ظلما، طوقه يوم القيامة إلى سبع أرضين.(مسند أحمد،ج:3،ص:178،رقم الحديث:1632)

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌قطع ‌ميراث ‌وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة.(مشكاة المصابيح،ج:2،ص:962،رقم الحديث:3078)

حدثنا قتيبة بن سعيد: حدثنا إسماعيل بن جعفر، عن أبي سهيل نافع بن مالك ابن أبي عامر، عن أبيه، عن أبي هريرة رضي الله عنه:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:‌آية ‌المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا اؤتمن خان، وإذا وعد أخلف.( صحيح البخاري،ج:2،ص:952،رقم الحديث:2536)

حدثنا علي بن مسلم: حدثنا عبد الصمد: حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، مولى ابن عمر، عن أبيه، عن ابن عمر:إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (إن ‌من ‌أفرى ‌الفرى أن يري عينه ما لم تر.(صحيح البخاري،ج:6،ص:2582،رقم الحديث:6636)

لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ ‌مال ‌أحد ‌بغير ‌سبب شرعي.( رد المحتار، على الدر المختار،ج:4،ص:61،دار الفكر،بيروت)


فتویٰ نمبر : 3560/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں