بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 16/08/2026

دارالافتاء

 

مثكوک مال کی آمدنی قرض میں دینا


سوال

اگر کسی سے پیسے مضاربت پر لیے جائیں اور اس شخص کی آمدن مشکوک ہو تو اس کاروبار سے جو آمدن ہوتی ہے، تو کیا وہ کسی کو قرض میں دے سکتے ہیں ؟مثلا: میں قرض دار ہوں تو اس کاروبار سے ہونی والی آمدن قرض دار کو دے سکتے ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ حرام مال سے ہونے والی  آمدنی کی مندرجہ ذیل  صورتیں ہو سکتی ہیں:

1۔ حرام مال اگرغصب  یا چوری کی  ہو تو  اصل رقم اس کے مالک کو واپس کرنا ضروری ہے،اور اگر  مالک وفات پاچکا ہو تو اس کے ورثاء کو لوٹا دیا جائے،   اگر یہ بھی ممکن نہ ہو، یعنی ورثاء کا بھی علم نہ ہو تو مال کے مالک کی طرف سےثواب کی نیت کرتے ہوئے مستحقِ زکاۃپر صدقہ کرنا ضروری ہے، البتہ اگر اس  نے غصب و چوری  کے مال سےکاروبار کرکے  جو منافع حاصل کئے ہو ں تو  اصل سرمایہ مالک کو لوٹانے کے بعد منافع اس کے لیے حلال ہوگا،اسی قول کو امام کرخی رحمہ اللہ نے ترجیح دی  ہے ، اور اسی پر فتوی ہے۔

2۔حرام مال اگر سود، جوا ، رشوت کی صورت میں ہوتواصل سرمایہ اس کے مالک کو واپس کرنا ضروری ہے،تاہم اس قسم کےحرام مال سےکاروبار کرکے  جو منافع حاصل  کیا ہے،  وہ اس کے لیے حلال ہو گا، اور اگر سودی رقم کا کوئی مالک نہ ہو جیسے بینک کا سود ،تو اس کو بلا  نیتِ ثواب فقراء و مساکین پر تقسیم کیا جائے۔

3۔اور حرام مال اگر کسی چیز کے بدلے میں حاصل ہوا ہو، مثلاً:حرام ملازمت وغیرہ کے ذریعے کمائی گئی آمدنی ہو تو  اسے ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کردیا جائے۔

لہذا صورت ِ مسئولہ میں مشکوک مال اگر مضاربت پر کاروبار کے لیے لیا گیا ہوالبتہ  مضاربت میں اس پر حلال کاروبارکیا گیا ہو  تو  اس سےحاصل شدہ منافع حلال ہیں، اس لیے بطور ِ قرض کسی کو دینا جائز ہے ۔

 

"والحاصل أنه إن علم ‌أرباب ‌الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه...ومفاده الحرمة وإن لم يعلم أربابه وينبغي تقييده بما إذا كان عين الحرام ليوافق ما نقلناه، إذ لو اختلط بحيث لا يتميز يملكه ملكا خبيثا، لكن لا يحل له التصرف فيه ما لم يؤد بدله." (رد المحتار على الدر المختار، کتاب البيوع، باب البيع الفاسد، مطلب فيمن ورث مالا حراما، ج:5، ص:99)

 

وفيه ايضاً:

"(قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا ‌يطيب ‌في ‌الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام." (رد المحتار على الدر المختار، كتاب البيوع، باب المتفرقات من أبوابها، مطلب إذا اكتسب حراما ثم اشترى فهو على خمسة أوجه، ج:5، ص:235،)

"إذا تصرف في المغصوب وربح فهو على وجوه إما أن يكون يتعين بالتعيين كالعروض أو لا يتعين كالنقدين فإن كان مما يتعين لا يحل له التناول منه قبل ضمان القيمة وبعده يحل إلا فيما زاد على قدر القيمة وهو الربح فإنه لا يطيب له ولا يتصدق به وإن كان مما لا يتعين فقد قال الكرخي: إنه على أربعة أوجه إما إن أشار إليه ونقد منه أو أشار إليه ونقد من غيره أو أطلق إطلاقا ونقد منه أو أشار إلى غيره ونقد منه وفي كل ذلك يطيب له إلا في الوجه الأول وهو ما أشار إليه ونقد منه قال مشايخنا لا يطيب له بكل حال أن يتناول منه قبل أن يضمنه وبعد الضمان لا يطيب الربح بكل حال وهو المختار والجواب في الجامعين والمضاربة يدل على ذلك واختار بعضهم الفتوى على قول الكرخي في زماننا لكثرة الحرام." (الفتاوى الهندية، كتاب الغصب، الباب الثامن في تملك الغاصب والانتفاع به، ج:5، ص:141)


فتویٰ نمبر : 3546/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں